Al-Risala · February 1996 · page 26

From denial to belief

الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۲۶

یہود و نصاریٰ کی عرب میں موجودگی۔ سماج میں مختلف قسم کے جرائم۔ مگر قرآن میں جو پہلی آیت اتری وہ یہ یں تھی کہ _ طھر الکعبة من الاصنام يا قاتل الفرس و الرومان يا اخر ج اليهود و النصارى من جزيرة العرب يا نفذ حدود الله على المجرمين_ اس کے بجائے قرآن کی پہلی آیت یہ تھی کہ پڑھ (اقرأ)، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسائل خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں مگر عمل کا آغاز علم سے کرنا چاہئے۔ یہی طریقہ پہلے بھی اختیار کیا گیا اور یہی طریقہ آج بھی اختیار کرنا ہے۔

ایک مسلمان تاجر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے یہاں بڑی تجارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ اعلیٰ معیار کی زندگی گزارتے ہیں۔ ایک صاحب نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا: اللہ نے ان کو بہت نوازا ہے۔

میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی یہ سوچ قرآنی سوچ نہیں۔ کیا آپ مجھے قرآن کی کوئی آیت بتا سکتے ہیں جس میں دنیوی ترقی کو "نوازش" کہا گیا ہو۔ وہ کوئی ایسی آیت نہ بتا سکے۔ میں نے کہا کہ دنیا میں نہ زیادہ ملنا نہ تو نوازش ہے اور نہ کم ملنا غیر نوازش۔ قرآن کے مطابق دونوں حالتیں ابتلاء کی حالتیں ہیں۔ اقتصادی تنگی کو اہانت سمجھنا بھی غلط ہے اور اقتصادی خوش حالی کو اکرام سمجھنا بھی غلط (الفجر ۱۵ - ۱۶)

حدیث میں ہے کہ لكل امة فتنة وفتنة اُمتی المال ۔ اس حدیث میں اس آنے والے دور کی پیشین گوئی ہے جب کہ لوگوں کے لئے سب سے بڑی چیز مال بن جائے گا۔ آج وہی زمانہ ہے۔ تمام لوگ مال کو اپنی دلچسپی بنائے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے۔ اس ظاہری فرق کے ساتھ کہ کچھ مسلمان دولت پرستی کے ساتھ "دین داری" کا ضمیمہ بھی اپنے ساتھ لگائے ہوئے ہیں۔ اور کچھ لوگ اس ضمیمہ کے بغیر دولت پرستی کے کام میں مشغول ہیں۔ ٹائمز (The Times) کے شمارہ ۳۰ ستمبر ۱۹۹۳ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بوسنیا ہر زے گووینا میں ۱۰ مہینے کی جنگ کے بعد اس کا ۹۰ فیصد حصہ سرب اور کروٹ کے قبضہ میں چلا گیا ہے۔ موجودہ پیس پلان میں قدیم یوگوسلاویہ تین نسل حصوں میں بٹ جائے گا۔ سرب ، کروٹ اور مسلمان ، مسلم لیڈر شپ تقسیم پر راضی ہوگئی ہے۔ مگر وہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues

Printed page