From denial to belief
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۰
چاہتی ہے کہ سرب فوج نے جن علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اس کو وہ خالی کرے اور سمندری ساحل کا چار فیصد حصہ اس کو دیا جائے۔ مگر سرب فوج اس پر راضی نہیں۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے جہاں بھی اس قسم کی تحریک اٹھائی ہے، ہر جگہ ان کو پسپائی اختیار کرنی پڑی ہے۔ اراکان (برما) میں، فلپائن میں، فلسطین میں، بوسنیا میں۔ ہر جگہ یہی ہوا ہے کہ مسلم لیڈروں نے زیادہ کی طرف چھلانگ لگائی اور آخر میں صرف کم ہی ان کے حصہ میں آیا۔ یہی اب کشمیر میں ہونے والا ہے۔
مسلمان اس کو اقدام کی سیاست سمجھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اس کا نام اقدام کی سیاست ہو تو پسپائی کی سیاست آخر کس چیز کا نام ہوگا۔
برطانیہ کے مسلمانوں میں اکثریت پاکستان (بشمول بنگلہ دیش) کی ہے۔ اسلامی مملکت میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی ایک ساتھ مل کر نہ رہ سکے۔ لیکن انگریز مملکت میں دونوں نہایت اطمینان کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
بیسویں صدی کے نصف اول میں جب پاکستان کا مطالبہ کیا گیا تو اس کے پیچھے ڈاکٹر محمد اقبال کا یہ ذہن تھا کہ :
اپنی ملت پر قياس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی برصغیر کے مسلمانوں نے بہت بڑے پیمانہ پر یہ مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو اپنے تشخص کے ساتھ زندہ رہنے کے لئے ایک علیحدہ خطۂ زمین کی ضرورت ہے۔ مسٹر محمد علی جناح اور دوسرے لوگوں نے اس کی زبردست وکالت کی۔ یہاں تک کہ پاکستان کی صورت میں ایک مسلم ہوم لینڈ بن گیا۔ مگر مسلم ہوم لینڈ بننے کے بعد مسلمانوں نے اس کو صرف زینہ کے طور پر استعمال کیا۔ اور ہر شخص جس کو موقع ملا وہ پرواز کر کے دوبارہ "اقوام مغرب" کی دنیا میں پہنچ گیا۔
یہ بلا شبہ ایک جرم تھا جو اسلام کے نام پر کیا گیا۔ اس میں مسلمانوں کے لیڈر اور عوام دونوں شریک ہیں۔ اس جرم کی کم سے کم تلافی یہ ہے کہ صاف لفظوں میں اس کا اقرار کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی کی دعا کی جائے۔
برطانیہ میں مقیم ایک عرب کو کچھ سفید فام نوجوانوں نے وحشیانہ طور پر قتل کر دیا۔ ان نوجوانوں
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues