From denial to belief
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۱
سے انٹرویو لیا گیا جس کو بات عدہ ٹی وی پر دکھایا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ تم نے اس کو کیوں قتل کر دیا۔ نوجوانوں نے صاف کہا کہ ان ایشیائیوں کو ہمیں اپنے ملک سے نکالنا ہے۔ کیوں کہ وہ ہمارے لئے مسئلہ بن گئے ہیں۔ وہ جہاں سے آئے ہیں وہیں چلے جائیں ورنہ بزور انہیں نکلنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔
برطانیہ میں ایک پارٹی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کا نام ہے برٹش نیشنل پارٹی (BNP) یہ نسل پرست لوگوں کی تنظیم ہے۔ وہ باہر سے آنے والے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کو ایشیائی (Asians) کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد ان ایشیائی لوگوں کو برطانیہ سے نکالنا ہے کیوں کہ وہ ہماری اقتصادیات پر بوجھ بن چکے ہیں۔ یہ لوگ اکثر ایشیائیوں پر حملے کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ خوف زدہ ہو کر یہاں سے بھاگ جائیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کو اپنی اقتصادی مشین چلانے کے لئے لیبر کی سخت ضرورت تھی۔ انھوں نے ایشیائیوں کی آمد کی حوصلہ افزائی کی۔ چنانچہ بڑے پیمانے پر ایشیائی ملکوں کے لوگ یہاں آگئے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد پاکستان ، بنگلہ دیش اور انڈیا کی تھی۔ مگر اب خودکاری (automation) کا دور آگیا اور اس کے نتیجہ میں انھیں بیرونی کارکنوں کی ضرورت نہ رہی۔ چنانچہ یہ باہر سے آئے ہوئے لوگ ان کی نظر میں غیر مطلوب (unwanted) بن گئے۔ یہ زبردست خطرہ ہے جو ایشیائیوں کے سر پر منڈلا رہا ہے اور جو سب سے زیادہ مسلمانوں کے حصہ میں آنے والا ہے۔ اس کے جواب میں یہاں کے مسلمانوں میں احتجاج کا ذہن ابھر رہا ہے۔ مگر احتجاج اس مسئلہ کا حل نہیں۔ اس کا حل صرف ایک ہے، اور وہ دعوت ہے۔ مسلمانوں کو یہاں داعی بن کر رہنا ہوگا۔ اگر انھوں نے احتجاجی سیاست کا طریقہ اختیار کیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ ان کا وہی حال نہ ہو جائے جو بوسنیا میں مسلمانوں کا ہوا۔ یکم اکتوبر کو جمعہ کا دن تھا۔ آج برمنگھم کی مرکزی مسجد (central mosque) میں خطاب کا پروگرام تھا۔ اسی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ خطبہ سے پہلے آدھ گھنٹہ نماز کے موضوع پر تقریر کی۔ میں نے کہا کہ قرآن و حدیث کے مطابق، نماز صرف ایک ظاہری عمل کا نام نہیں ہے بلکہ ایک اسپرٹ کا نام ہے۔ ظاہری اعمال کا پیمانہ یہی روحانی اور اخلاقی اسپرٹ ہے۔ اگر نماز سے یہ اسپرٹ پیدا الحمر ال فروری ۱۹۹۶
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues