From denial to belief
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۲
ہور ہی ہو تو وہ مطلوب نماز ہے اور اگر یہ اسپرٹ پیدانہ ہو تو حدیث کی زبان میں اس سے کہا جائے گا : ارجع فصلّ فانّك لم تصل۔
نماز سے فراغت کے بعد کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ اکثر لوگوں نے پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ایک صاحب ملے۔ انھوں نے کہا کہ میرا ایک سوال ہے۔ میں اس کا جواب چاہتا ہوں۔ میں نے کہا فرمائیے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے قرآن کے ترجمہ میں ایک جگہ ”شیطان کی اولاد “ پڑھا ہے ، تو کیا شیطان میں بھی شادی بیاہ کا سلسلہ ہے۔
پوچھنے والوں کو یہ پوچھنا چاہئے کہ شیطان کی تلبیسات کیا ہیں اور ان سے بچنے کی تدبیر کیا ہے۔ مگر لوگ عجیب و غریب طور پر یہ پوچھ رہے ہیں کہ شیطان کے یہاں کیا شادی بیاہ اور اولاد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں میں نہ صحیح دینی فہم پیدا ہوا اور نہ صحیح علمی مزاج۔ جمعہ کی نماز ختم ہوئی تو نماز جنازہ کا اعلان ہوا۔ لوگ اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے ۔ اس کے بعد دو اسٹول لاکر اگلی صف کے آگے بچھائے گئے۔ پھر کچھ آدمی خوبصورت قسم کا ایک لمبا بکس لائے اور اس کو اسٹول کے اوپر رکھ دیا۔ یہ عمدہ لکڑی کا بنا ہوا تابوت تھا۔ اس کے اندر میت تھی اور اس کو نہایت مضبوطی کے ساتھ پیک کر دیا گیا تھا۔ تمام لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں کے قانون کے مطابق ، جس طرح عیسائی لوگ اپنی میت کو تابوت میں دفن کرتے ہیں، اسی طرح مسلمانوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ اپنی میت کو تابوت میں رکھ کر دفن کریں۔ یہ قانون شعبہ ماحولیات (environmental department) کی طرف سے بنایا گیا ہے۔ یہ تابوت مخصوص کارخانوں میں اہتمام کے ساتھ بنائے جاتے ہیں، اور وہ بہت مہنگے ہوتے ہیں۔ یعنی ہندوستانی روپیہ کے لحاظ سے ۲۵ ہزار روپیہ سے لے کر پچاس ہزار روپیہ تک۔ انڈیا کی حکومت اگر ماحولیاتی تحفظ کے نام پر اس قسم کے تابوت کو ضروری قرار دے تو ہندوستان کے نام نہاد رہنمااس کو ”شریعت میں مداخلت “ قرار دے کر فورا اس کے خلاف احتجاجی تحریک چلا دیں گے ۔ مگر برطانیہ کے دو ملین مسلمان اس کو بلا احتجاج قبول کئے ہوئے ہیں۔ اسی کا نام ایڈجسٹمنٹ ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے ایڈجسٹمنٹ ایک ملک میں جائز ہے اور دوسرے ملک میں ناجائز۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues