سمجھ کی کمی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۳
سمجھ کی کمی
بابری مسجد (اجودھیا) کے نام پر جو پر شور تحریک چلائی گئی اس میں مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ یہ کہتا تھا کہ بابری مسجد کے مسئلہ کو اتنی زیادہ اہمیت دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت سی مسجدوں میں سے صرف ایک مسجد نہیں ہے بلکہ وہ ہندوستان میں ملت مِمسلمہ کے وجود کی علامت ہے۔ بابری مسجد کے ساتھ پوری ملت کی قسمت بندھی ہوئی ہے۔ بابری مسجد اگر باقی رہتی ہے تو مسلمان بھی باقی رہیں گے۔ بابری مسجد اگر نہ رہے تو اس کے بعد اس ملک میں مسلمانوں کے وجود کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد مکمل طور پر ڈھادی گئی۔ حتیٰ کہ اس کی جگہ پر ایک عارضی مندر بنا کر کھڑا کر دیا گیا۔ اس واقعہ پر اب تین سال گزر چکے ہیں۔ مگر ہندوستان کی ملت سلمہ پوری شان کے ساتھ بدستور موجود ہے۔ اس کی تمام دینی اور ملی سرگرمیاں مزید اضافہ کے ساتھ یہاں جاری ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ مذکورہ علامتی نظریہ سراسر بے بنیاد تھا۔ یہ کچھ سطحی ذہنوں کی خود ساختہ پیدا وار تھی۔ اس کا کوئی بھی تعلق نہ تاریخ سے تھا اور نہ دین اسلام سے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام مسائل بے علمی اور کم فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک معاملہ پیش آتا ہے۔ اب جو لوگ اس کو گہرائی کے ساتھ سمجھ نہیں پاتے وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو ہماری غیرت کے لیے چیلنج ہے ہم کیسے اس پر خاموش رہ سکتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ضمیر کا سوال ہے ، ہم کیوں کر اس پر سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے وقار کا مسئلہ ہے پھر کیسے ہم اس کو برداشت کر سکتے ہیں۔
اس قسم کے تمام احساسات صرف کم فہمی کا ثبوت ہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنی عدم واقفیت کی بنا پر واقعات کو صرف ایک پہلو سے دیکھ پاتے ہیں۔ وہ اس کے دوسرے پہلوؤں کو دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ وہ جانتے ہیں مگر وہ نہیں جانتے۔ ایسے لوگوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ نازک مسائل پر چپ رہیں۔ اپنے قصور فہم کے باوجود اگر وہ بولیں گے تو وہ جرم کریں گے اور یقینی طور پر خدا کے یہاں پکڑے جائیں گے۔ خواہ اپنے خیال کے تحت وہ حق کے لیے ایسا کر رہے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues