لیڈری نے تباہ کیا
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۴
لیڈری نے تباہ کیا
بابائے اردو مولوی عبدالحق (۱۹۶۱ء-۱۸۷۸ء) کی ایک کتاب ہے جس کا نام "چند ہم عصر" ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے اپنی کچھ ہم زمانہ شخصیتوں پر اپنے تاثرات قلم بند کئے ہیں۔ ایک مضمون میں وہ مولانا محمد علی جوہر کے بارے میں لکھتے ہیں :
" محمد علی مرحوم ہر اعتبار سے ایک دیو پیکر شخص تھا۔ اس کے رفتہ اور اس کے ہم عصر اس کے سامنے پودنے تھے، مگر افسوس اسے اپنے اوپر قابو نہ تھا اور یہی اس کی ناکامی کی اصل تھی۔ اس کے ایک دوست جو اسے بچپن سے جانتے تھے، اور جنھوں نے زندگی کی ہر منزل میں اسے دیکھا اور اس کا ساتھ دیا تھا، فرماتے تھے کہ محمد علی کو لیڈری نے تباہ کیا۔ اس میں مطلق شبہ نہیں کہ وہ اپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ لیڈری کے قابل تھا۔ بشرطیکہ اسے اپنے نفس پر قابو ہوتا۔ وہ جس طرح بیماری میں پر ہیز پر رہتا۔ لو نہیں رکھتا تھا اسی طرح ہر معاملے میں جوش کے وقت اپنے اختیار سے باہر ہو جاتا تھا۔ محمد علی کی زندگی بہت سبق آموز اور نہایت عبرت انگیز ہے۔ اس کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ہم میں بہتر سے بہتر اور قابل سے قابل شخص بھی ابھی بہت پیچھے ہے۔ ہماری ناکامی کے اسباب خود ہم میں موجود ہیں۔ آج جس شئی کے لئے ہم لڑرہے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید ہم اس کے قابل نہیں۔ ہم جب اپنے نفسوں کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہماری سیرتیں خام، ہماری طبیعتیں نا تربیت یافتہ اور ہمارے نفس چور ہیں، ہمیں ابھی بہت سی ٹھوکروں اور بہت کچھ تربیت کی ضرورت ہے۔ جس چیز کی ہم خواہش کر رہے ہیں اس کے لئے پختہ سیرت اور اعتدال طبع کی ضرورت ہے اور وہ ابھی ہم سے کوسوں دور ہے۔ "
ڈاکٹر عبد الحق نے مولانا محمد علی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، وہی موجودہ زمانہ کی تقریباً تمام مسلم شخصیتوں پر صادق آتا ہے۔ ہر ایک کو لیڈری نے تباہ کیا۔ ہر ایک کی بہترین صلاحیتیں چند دن کے شور و ہنگامہ کے بعد ختم ہو گئیں، ان کی صلاحیت نہ خود صاحب شخصیت کے کام آئی اور نہ ملت کو ان سے کوئی حقیقی فائدہ پہنچا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues