Al-Risala · February 1997 · page 47

We are number 4 in the sequence.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۷

ہیں وغیرہ۔ جب میں نے کانفرنس کا نام لیا تو انھوں نے پوچھا کہ کیا آپ امام ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر انھوں نے کہا کہ کیا آپ پر یسٹ ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ وہ مسلم امام اور عیسائی پر یسٹ سے واقف تھا۔ اس نے فرض کر لیا کہ مجھے انھیں دو میں سے کوئی ایک ہونا چاہئے۔ اسی طرح ہر آدمی اپنے ذہنی سانچے لحاظ سے دوسروں کے بارہ میں رائے قائم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر رائیں واقعہ کے مطابق نہیں ہوتیں۔ پو چھنے پر معلوم ہوا کہ وہ ایک پرائیویٹ ایئر کمپنی کے مالک ہیں۔ اس وقت ہندوستان میں تقریباً دس پرائیویٹ کمپنیاں ہیں۔ ان کی کمپنی کا نام یہ ہے: Jagson International Limited. یہ نام انھوں نے اپنے نام پر بنایا ہے۔ ان کا نام ہے جگدیش گپتا۔ ان کا ایک لڑکا ہے۔ انھوں نے اپنے نام کا جگ لے کر جیگ سن (Jagson) بنا لیا۔ اس طرح ان کی کمپنی کا نام بظاہر یورپی دکھائی دینے لگا۔

نام رکھنے کا یہ طریقہ مسلمانوں میں بھی اسی طرح رائج ہے۔ چنانچہ آجکل مدرسوں اور مسلم اداروں کے نام کثرت سے اس ڈھنگ سے رکھے جاتے ہیں جو عربوں جیسے دکھائی دیں۔ مسلمانوں میں یہ رواج کسی اسلامی داعیہ سے نہیں آیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ "پٹرول ڈالہ" کے ظہور کے بعد یہ طریقہ رائج ہوا ہے۔ اس سے پہلے اس کا رواج ہمارے یہاں موجود نہ تھا۔ اپنی عادت کے مطابق میں مسٹر جگدیش سے ان کے کے اپنے میدان کی باتیں کرنے لگا۔ ان سے میں نے پوچھا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کے جہاز ہمیشہ ٹھیک وقت پر چلتے ہیں۔ جب کہ انڈین ایئر لائنز کے جہاز اکثر لیٹ ہو کر روانہ ہوتے ہیں۔ اور نتیجہ یہ دیر میں اپنی منزل پر پہنچتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ "پرائیویٹ کمپنیوں کو سر دو الو کرنا ہے۔ جب کہ انڈین ایئر لائنز کو معلوم ہے کہ اس کو سرکار سے سبسڈی ملے گی۔ مدد کا یقین نہ ہو تو آدمی سخت چوکنار ہتا ہے۔ مگر جس آدمی کو مدد کا بھروسہ ہو وہ کبھی چوکنانہیں رہے گا۔ مسٹر گپتا کی کمپنی اپنے جہاز فیڈر روٹ (feeder routs) پر چلاتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پرائیویٹ کمپنیوں میں کچھ وہ ہیں جو ٹرنک روٹ پر اپنے جہاز چلاتی ہیں۔ وہ عام

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page