History travels by train.
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۱۶
جا کر معلوم کرو کہ حقیقی صورت حال کیا ہے۔ آدمی نے بتایا کہ پولیس افسر کی رپورٹ تو درست ہے۔ البتہ وہ لوگ سخت دھوپ سے پسینہ پسینہ ہورہے ہیں اور پیاس کی وجہ سے ان کے گلے اتنے سوکھ گئے ہیں کہ نعرہ لگانا بھی ان کے لئے مشکل ہورہا ہے۔ مسٹر چاری نے فوراً اپنے ڈپٹی کلکٹر سے کہا کہ بہت سی بڑی بڑی ناندمنگواؤ اور اس میں ٹھنڈا پانی بھر کر کلکٹریٹ کے سامنے کے میدان میں رکھو ادو۔ اور وہاں پینے کے لئے بہت سے کوزے بھی رکھ دو۔
فوراً اس حکم کی تعمیل کی گئی۔ کچھ دیر کے بعد جب جلوس والے وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ٹھنڈا پانی وہاں بڑی مقدار میں موجود ہے۔ تمام لوگ پانی پر ٹوٹ پڑے۔ ہر ایک نے جی بھر کر پانی پیا۔ اس کے بعد اپنے آپ تمام لوگ ٹھنڈے ہوگئے۔ جلوس کے لیڈر کلکٹر صاحب کے دفتر میں آکر ان سے ملے۔ مگر انہوں نے نہ سخت کلامی کی اور نہ کوئی تشدد کیا۔ بلکہ کلکٹر سے معافی مانگ کرہنستے ہوئے چلے گئے۔ مسٹر چاری نے یہ واقعہ مجھ سے ٹرین میں بیان کیا تھا۔ اس کے بعد میں نے اس کو ان کے حوالے سے کانفرنس کی صدارتی تقریر میں دہرایا۔ مسٹر چاری نے بعد کو بتایا کہ کا نفرنس کے ایک ڈیلی گیٹ مسٹر پی این دھر) ان سے پوچھ رہے تھے کہ یہ واقعہ ہے یا افسانہ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین دماغ بھی مثبت انداز میں سوچنے سے کس قدر عاجز ہیں۔ ایک صاحب نے زمانہ کا فرق بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جب ریلوے ٹرین ایجاد ہوئی تو کہا جانے لگا کہ تاریخ ٹرین کے ذریعہ سفر کرتی ہے :
History travels by train.
اب زمانہ کی تیز رفتاری بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ چنانچہ آج کہا جاتا ہے کہ تاریخ فیکس مشینوں کے ذریعہ سفر کرتی ہے :
History travels by Fax machines.
ایک ہم سفر نے کہا کہ ہم لوگوں کی سوچ زمانہ کی رفتار کے مطابق نہیں۔ ہم نے ہندی زبان کو پہلے نیشنل لینگویج کہا۔ مگر وہ ناکام ہو گیا۔ اب ہم ہندی کو لنک لینگو یج کانام دے رہے ہیں۔ پہلے ہم نے ریجنل زبانوں کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اب ہندی کولنک لینگویج کہہ کر ہم ریجنل زبانوں کی اہمیت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے اندر دور اندیشی کی کمی ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues