History travels by Fax machines.
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۱۷
ہماری سوچ زمانے سے بہت پیچھے ہے۔
دن میں گیارہ بجے ہماری ٹرین کالکا پہنچی۔ یہاں سے ہمارا اقامتہ گاڑیوں کے ذریعہ آگے روانہ ہوا۔ ریلوے اسٹیشن سے پہلے ہم لوگ ہوٹل شوالک لے جائے گئے۔ یہاں کچھ دیر آرام کرنا تھا ۔ میں نے غسل کیا۔ پھر مسٹر انور جعفری (بھوپال) سے تبادلہ خیال کرتا رہا۔ آخر میں ہوٹل کی طعام گاہ میں لمبی میز پر سب لوگوں نے اکٹھے کھانا کھایا۔ یہیں ظہر کی نماز پڑھی۔ ہوٹل شوالک میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ میرے ایک دوست فرقہ پرستی کے بہت مخالف ہیں۔ چنانچہ انھوں نے انگریزی میں ایک میگزین نکالا ہے جس کا نام ہے ۔۔۔۔۔ فرقہ پرستی سے لڑو (Combat Communalism) میں نے کہا کہ زیادہ بہتر یہ تھا کہ وہ اخوت کو فروغ دو (Promote Brotherhood) کے نام سے اپنا میگزین نکالتے میں نے کہا کہ وہ لوگ جن کو فرقہ پرست کہا جاتا ہے ، وہ کوئی بھیڑیوں کی مانند ہم سے الگ نوع نہیں ہیں۔ وہ بھی ہماری ہی طرح کے انسان ہیں۔ ان کے اندر بھی وہی فطرت ہے جو ہمارے اندر ہے۔ البتہ ان کی فطرت پر کچھ عارضی پردے پڑ گئے ہیں۔ آپ حکمت سے ان پر دوں کو ہٹا دیجئے ۔ اور پھر آپ دیکھیں گے کہ وہ بھی آپ ہی کی طرح شریف انسان بن گئے ہیں۔ ڈیڑھ بجے کالکا سے شملہ کے لئے روانگی ہوئی۔ میں جس کار میں تھا اس میں میرے ساتھ جسٹس آرایس پاٹھک بھی تھے۔ وہ چیف جسٹس آف انڈیا رہ چکے ہیں۔ انٹرنیشنل کورٹ میں وہ دو سال تک رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کے بہت سے واقعات بتائے۔ راجیو گاندھی کی حکومت کے زمانہ میں شاہ اردن کی دعوت پر وہ چار روز کے لئے اردن بھی جا چکے ہیں۔ جسٹس پاٹھک سے میں نے کہا کہ آپ نے انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر بہت کچھ دیکھا ہے۔ آپ اپنا کوئی انوکھا واقعہ (incident) بتائیے۔ مگر اس وقت انھوں نے ایسا کوئی واقعہ نہیں بتایا بتایا۔ انھوں نے مسکرا کر کہا کہ پھر بتائیں گے۔
جسٹس آرایس پاٹھک نے بتایا کہ جب وہ انٹرنیشنل کورٹ میں پہنچے اور پہلا فیصلہ لکھا تو میرا فیصلہ رد کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ میں نے اسی عام زبان میں لکھا تھا جس کا میں ہندوستان کی عدالت میں عادی ہو چکا تھا۔ یعنی ایک فریق کی جیت اور دوسرے فریق کی ہار کا اعلان ۔ مگر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues