Al-Risala · March 1997 · page 18

History travels by Fax machines.

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۱۸

انٹرنیشنل کورٹ کے فیصلوں میں یہ زبان نہیں چلتی۔ وہاں فریقین کی سماعت کے بعد جب فیصلہ دیتا ہے تو اس کو وہ ایسی زبان میں لکھتا ہے کہ جیتنے والا تو اس میں فاتح نظر آئے مگر ہارنے والا بھی اپنے کو مفتوح نہ سمجھے۔

کالکا سے شملہ کا سفر بذریعہ روڈ طے ہوا۔ یہ سفر تقریباً تین گھنٹہ کا تھا۔ پورا راستہ سرسبز وادیوں کے درمیان سے گزرا۔ میں نے سوچا کہ یہ مناظر کتنے حسین ہیں۔ ان کو دیکھ کر جی چاہنے لگتا ہے کہ انھیں کے درمیان زندگی گزاری جائے۔ مگر جب آدمی یہاں شہر بسا تا ہے تو طرح طرح کی آلودگی بہت جلد اس کے حسن کو غارت کر دیتی ہے۔ اور اگر شہر نہ بسایا جائے تو انسان جیسی مخلوق کے لئے ان کے درمیان زندگی گزار نا ممکن نہیں۔ کیسا عجیب معجزہ ہے جس سے انسان اس دنیا میں دوچار ہے۔ شاید یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ ـــــ لقد خلقنا الانسان فی کبد ـ ہماری کار کے ڈرائیور گر پال سنگھ تھے۔ ان سے میں نے گاڑی چلانے کی بابت سوالات کئے۔ انھوں نے کہا کہ گاڑی چلاتے ہوئے ہم کو ہر وقت سبک رہنا پڑتا ہے۔ اگر ہم آپ ٹھیک چل رہے ہیں، دوسرا غلط آگیا تو اس سے بھی ہمیں کو بچاؤ کرنا پڑتا ہے۔ دوسری بات انھوں نے میدانی سفر اور پہاڑی سفر کے بارہ میں بتائی۔ انھوں نے کہا کہ میدان میں تو میٹرک دور تک دکھائی دیتی ہے۔ وہاں آپ گاڑی کو تیز بھی دوڑا سکتے ہیں۔ مگر پہاڑی سڑکوں پر آپ ۳۰- ۳۵ کلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں جا سکتے یہاں بار بار موڑ آتا ہے۔ آپ کو پتہ نہیں ہوتا کہ موڑ کے ادھر کیا ہے۔ اس لئے ہم کو سلو چلنا پڑتا ہے، ورنہ ٹکر آؤ کا بہت ڈر ہے۔ راستہ میں کئی جگہ گاڑیاں الٹی ہوئی نظر آئیں میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ شاید وہی لوگ ہیں جنھوں نے پہاڑی سڑک پر بھی اپنی گاڑی اس طرح دوڑانی شروع کردی تھی جیسے کوئی شخص میدانی سڑک پر گاڑی دوڑاتا ہے۔ ایک جگہ لینڈ سلائڈ ہوا تھا۔ مٹی اور پتھر بہت بڑی مقدار میں اوپر سے گر کر سڑک پر ڈھیر ہو گئے تھے۔ تا ہم یہ سڑک کافی چوڑی ہے۔ اس لئے ملبہ آدھی سڑک تک پھیلا۔ وہ پوری سڑک پر پھیل کر سواریوں کے لئے رکاوٹ نہ بن سکا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page