Al-Risala · March 1997 · page 19

History travels by Fax machines.

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۱۹

سڑک کے ذریعہ تقریباً ڈھائی گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم ''بادلوں'' کے اندر داخل ہوگئے۔ شملہ ۲۲۰۰ میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس لئے یہاں موسم بالکل بدل جاتا ہے۔ یہاں آتے ہی ہم بادلوں کی اونچائی پر پہنچ جاتے ہیں۔

زمین پر جس طرح کبھی کبھی کہر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح یہاں ہر طرف بادل چھائے ہوئے تھے۔ اس کی وجہ سے سڑک پر کسی قدر اندھیرا ہو گیا تھا۔ اس طرح بادلوں کے درمیان چلتے ہوئے ہم شملہ میں داخل ہوگئے۔

شملہ میں میرا قیام ہوٹل ہالی ڈے ہوم (کمرہ نمبر ۳۰۶) میں تھا۔ میدانی ہوٹلوں کی طرح اس سے ملحق لان اور گارڈن نہیں ہیں۔ پہاڑوں کے اوپر جو ہوٹل بنائے جاتے ہیں وہ عام طور پر ایسے ہی ہوتے ہیں۔

یہاں ایک سرکاری افسر سے ملاقات ہوئی۔ گفت گو کے دوران انھوں نے کہا کہ جب میں طالب علم تھا تو میرے بہت سے دوست تھے۔ پھر جب میں جونیئر افسر کی پوسٹ پر تھا تب بھی میرے دوستوں کی تعداد کافی تھی۔ مگر جب میں ترقی کرکے اعلیٰ افسر بن گیا تو میرے دوست بہت کم ہوگئے۔ میں نے پوچھا کہ اس کی وجہ آپ کے خیال سے کیا ہے۔ انھوں نے فوراً کہا کہ رقابت (rivalry) اسی کو مذہب کی اصطلاح میں حسد کہا جاتا ہے۔

حسد کا مرض اس دنیا میں بہت زیادہ عام ہے۔ بلکہ شاید کوئی بھی شخص اس جذبہ سے خالی نہیں۔ دوسرا آدمی جب تک آپ کو اپنے سے کم یا برابر دکھائی دے، آپ کے احساسات اس کے بارہ میں نارمل رہتے ہیں۔ مگر جب آپ کو محسوس ہو کہ دوسرا شخص عہدہ یا مال یا شہرت میں آپ سے آگے بڑھ گیا ہے تو فوراً آپ کے اندر اس کے خلاف جلن پیدا ہو جاتی ہے۔ آپ اس کی کاٹ کرنے لگتے ہیں تاکہ اس کو غلط بتاکر اپنے اس جذبہ کو تسکین دیں کہ اب بھی آپ اس سے بلند ہیں۔

یہ نفسیاتی کمزوری کبھی شعوری طور پر آدمی کے اندر آتی ہے لیکن زیادہ تر آدمی کے دماغ میں غیر شعوری طور پر داخل ہو جاتی ہے۔ بطور خود آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے اندر کسی کے خلاف جلن اور حسد نہیں، حالاں کہ آپ مکمل طور پر حسد کی ذہنیت کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page