Al-Risala · March 1997 · page 20

History travels by Fax machines.

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۲۰

شملہ ہماچل پردیش کا صدر مقام ہے۔ وہ ہمالیہ کے اوپر ۲۲۰۰ میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ وہ ہندوستان کے چند انتہائی مشہور پہاڑی مقامات میں سے ایک ہے۔ دہلی سے اس کا فاصلہ تقریباً ۳۴۰ کلومیٹر ہے۔

شملہ کو ۱۸۱۶-۱۸۱۴ میں انگریزوں نے بسایا تھا۔ اس وقت اس کا مقصد برطانی فوجی دستوں کو وہاں رکھنا تھا۔ بعد کو وہ گرمیوں کا موسم گزارنے کے لئے ایک مقبول پہاڑی مقام بن گیا۔ ۱۸۶۵ سے ۱۹۳۹ تک وہ گرمیوں کے لئے ملک کی راجدھانی رہا۔

جب تک میں نے شملہ کو نہیں دیکھا تھا، شملہ ایک افسانوی شہر معلوم ہوتا تھا۔ مگر دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بھی دوسری بستیوں کی طرح ایک بستی ہے۔ کسی زمانہ میں یہاں فطرت کا حسن ہوگا، صحت بخش ہوا لوگوں کو ملتی ہوگی، سکون کا ماحول نظر آتا ہوگا۔ مگر آج وہ شملہ کہیں موجود نہیں۔ اس کے راستوں میں چلتے ہوئے میرا احساس یہ تھا کہ یہ گویا مکانوں کا ایک جنگل ہے جس میں کچھ انسان نما مخلوق ہر طرف بھیڑ لگائے ہوئے ہے۔ پچاس سال پہلے کا شملہ اب یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

جیسے ہی ہماری گاڑی شملہ کے اندر داخل ہوئی، اس سے میری دلچسپیاں ختم ہوگئیں، میں دن اور گھنٹے گننے لگا کہ کب یہاں سے واپسی ہوگی۔ مجھ کو فطرت کا ماحول پسند ہے۔ مگر آج کے شملہ کے لئے فطرت کا حسن ایک قصۂ ماضی بن چکا ہے۔

دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو ہندوستان پر برطانیہ کی حکومت قائم تھی۔ اس نے ہندوستان کو بھی جنگ میں شریک کر دیا۔ مہاتما گاندھی کو اس سے اختلاف تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستان ایک عدم تشدد کا ملک ہے۔ اس کو تشدد کے معاملہ میں فریق نہیں بننا چاہئے، وائسرائے لار ڈلنتهگونی نے بذریعہ ٹیلی گرام مہاتما گاندھی کو شملہ آنے کی دعوت دی تاکہ اس مسئلہ پر گفتگو کی جاسکے۔ مہاتما گاندھی فوراً ٹرین سے سفر کرکے شملہ پہنچے۔ لوئی فشر کی رپورٹ کے مطابق، مہاتما گاندھی نے شملہ میں کہا کہ میں خدا سے پوچھتا ہوں کہ وہ اس قسم کی تشدد دانہ چیزوں کو ظہور میں آنے کی کیوں اجازت دیتا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدم تشدد ناکام ہو گیا اور خدا بھی نا کام ہو گیا :

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page