ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۲۱
مگر اس تبصرہ کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ دوسری عالمی جنگ ہٹلر نے چھیڑی تھی۔ یہ جنگ کامیاب نہ ہوسکی۔ ایک سرکش انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے جنگ چھیڑی۔ مگر خدا نے اس جنگ کی آگ کو بجھا دیا۔ اس کو زیادہ بڑھنے کا موقع نہیں دیا۔
۱۹۷۱ میں بنگلہ دیش کی جنگ کے بعد پاکستان کے ۹۰ ہزار فوجی گرفتار ہو کر ہندوستان لائے گئے۔ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ وہ اپنے فوجیوں کو چھڑا کر لے جانے کے لئے ہندوستان آئے۔ مسز اندرا گاندھی سے ان کی بات چیت بھی شملہ میں ہوئی۔ آخر کار وہ اتفاق نامہ طے پایا جس کو شملہ ایگریمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس میں طے پایا تھا کہ دونوں ملک اپنے اختلافات کو (بشمول جموں و کشمیر) دو طرفہ گفتگو کی بنیاد پر پر امن طریقہ پر حل کریں گے (کلاز ۲)
اس ایگریمنٹ کی رو سے پاکستان نہ کشمیر کے مسئلہ پر جنگ چھیڑ سکتا تھا اور نہ ہندوستان کے خلاف وہ گوریلا وار شروع کر سکتا تھا جو ان کی مدد سے ۱۹۸۹ سے جاری ہے۔ ۱۹۹۲ کے پاکستانی الکشن میں جماعت اسلامی پاکستان نے اس کو اپنا اشو بنایا۔ اس نے کہا کہ شملہ ایگریمنٹ ہمارے لئے کشمیر کے حصول میں رکاوٹ ہے۔ کشمیر جنگ کے بغیر نہیں مل سکتا اور اس ایگریمنٹ نے ہم کو جنگ چھیڑنے سے روک دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ووٹ دو تا کہ ہم اس ایگریمنٹ کو ختم کر کے انڈیا سے جنگ کریں اور کشمیر کو دوبارہ حاصل کریں۔ اس زمانہ میں ان کا نعرہ ہوتا تھا :
ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر
مگر پاکستانی قوم جماعت اسلامی کے اس نعرہ سے متاثر نہیں ہوئی۔ الکشن ہوا تو امیر جماعت قاضی حسین احمد صاحب سمیت جماعت کے تمام لیڈر بری طرح ہار گئے۔
برطانوی دور میں شملہ گرمی کے لئے ملک کی راجدھانی سمجھا جاتا تھا۔ آزادی ہند کی بہت سی گفتگوئیں شملہ میں ہوئیں۔ شملہ سے بہت سی تاریخی یادیں وابستہ ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے آخر میں شملہ میں ایک کانفرنس ہوئی۔ لارڈ ویویل اس وقت برطانیہ کے وائسرائے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues