ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۲۲
کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے اونچے لیڈر اس میں شریک ہوئے۔
اس بات چیت میں، برطانی حکومت کی طرف سے جو نقشہ پیش کیا گیا ، اس میں مسلمانوں اور اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو برابر کا تناسب دیا گیا تھا:
مگر مسٹر جناح کے انکار کی وجہ سے یہ منصوبہ منظور نہ ہوسکا۔ کیوں کہ برطانیہ کی پالیسی یہ تھی کہ مسلم لیگ کی رضامندی کے بغیر کوئی منصوبہ نہ طے کرے۔ مسٹر جناح نے ایک اخباری بیان میں کہا: شملہ میں ہر طرف نیچے اونچے راستے ہیں۔ اس لئے شہر کے اندر مال برداری کا کام جزوی طور پر سواریوں کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔ یہاں بے شمار مزدور ہیں جو ہر وقت یہ کام کرتے رہتے ہیں۔ ایک عجیب منظر بار بار یہ دکھائی دیا کہ ایک مزدور کو کنگ گیس کے دو بھرے ہوئے سلنڈر اپنی پیٹھ پر باندھے ہوئے ہے، اور جھکی ہوئی حالت میں اس کو لے کر چل رہا ہے۔ اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجئے کہ اس قسم کی پر مشقت مزدوری کرنے والے زیادہ تر کشمیری لوگ نظر آئے۔ ۱۹۸۹ سے پہلے کشمیر میں سیاحوں کی مسلسل آمد کی وجہ سے کشمیریوں کے لئے روزی کمانا بہت آسان تھا۔ اس کے بعد وہاں سیاحوں کی آمد رک گئی۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ کشمیری لوگ مجبور ہیں کہ وہ باہر جاکر سخت محنت کے ذریعہ اپنی روزی حاصل کریں۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہندوستان کی مصیبتوں کے اصل ذمہ دار دو ہیں۔ مسٹر محمد علی جناح ، اور جواہرلال نہرو۔ مسٹر جناح کی فرقہ وارانہ سیاست نے ملک کو ہندو مسلم نفرت سے بھر دیا۔ پاکستان کے لوگ کہتے ہیں کہ ہندو ہمارا ازلی دشمن ہے ، زیادہ صحیح طور پر انھیں کہنا چاہئے کہ جناح کی تفریقی سیاست نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ازلی طور پر ایک دوسرے کا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues