ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۲۴
لگا اور مسجد میں آ کر نماز میں شریک ہو گیا۔ آج یہ گاؤں کافی ترقی کر چکا ہے۔ اب وہاں نہ صرف مدرسہ اور مسجد آباد ہیں، بلکہ وہاں کے مسلمان تعلیم اور اقتصادیات میں بھی کافی آگے بڑھ چکے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد مولانا ممتاز صاحب شملہ منتقل ہو گئے۔
ہماچل پردیش پہلے پنجاب کا ایک حصہ تھا۔ ۱۹۴۷ء میں یہاں جو قتل و خون ہوا اس وقت بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ علاقہ اب ہمیشہ کے لیے ناقابل رہائش ہو چکا ہے۔ مگر آج دوبارہ یہاں مسلمان معتدل حالات میں آباد ہو رہے ہیں۔ ہماچل پردیش اور پنجاب کے ہر حصہ میں مسلمان دوبارہ نظر آنے لگے ہیں۔
پنجاب کے بہت سے مقامات پر مسلمانوں کی جائدادیں اور ان کی مسجدیں دوبارہ ان کو حاصل ہو گئی ہیں۔ اس سلسلہ کی تازہ خبر یہ ہے کہ پنجاب کے شہر مکتسر میں ایک بڑی مسجد تھی جو ۱۹۴۷ء کے ہنگامہ میں سکھوں کے قبضہ میں چلی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ”بابا ٹھاکر سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے مکتسر کی اس جامع مسجد کو آپسی بھائی چارہ کے فروغ کے لئے مسلمانوں کے حوالے کر دیا ہے۔ وہاں سے سکھوں کے جھنڈے اور شری گورو گرنتھ صاحب کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ مسجد ۱۹۴۷ء کے بعد گورو دوارہ کے طور پر استعمال کی جارہی تھی۔ اور مقامی شری گور وسنگھ سبھا اس کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ تقریباً ۱۱۵ سال پہلے سردار کرتار سنگھ بھنڈراں والا نے اس مسجد میں سکھوں کا جھنڈا نصب کیا تھا۔ (اخبار نو، نئی دہلی۔ ۱۵ - ۲۱ جولائی ۱۹۹۴ء) فساد خواہ کتنا ہی بڑا ہو، بہت جلد اس کی حد آ جاتی ہے، اور آخر کار جس چیز کو فتح اور بقا حاصل ہوتی ہے وہ امن ہے۔ فساد ایک وقتی حادثہ ہے اور امن ایک دیرپا حقیقت۔ ۴ جولائی کی شام کا وقت ہے۔ ابھی سورج غروب نہیں ہوا ہے۔ میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں ہوں اور شیشہ کے اُس پار دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مگر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ قریب میں کچھ درخت کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دور بھورے رنگ کے بادلوں میں ہر چیز ڈوبی ہوئی ہے۔ دیکھنے سے پہلے شملہ ایک پر اسرار مقام محسوس ہوتا تھا۔ لیکن دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ بعض ظاہری فرق کے ساتھ وہ بھی دوسرے شہروں کی طرح ایک شہر ہے۔ کسی پہلو سے اگر شملہ زیادہ ہے تو کسی اور پہلو سے وہ کم ہے۔ اسی طرح ہمارے عام شہراگر کسی سے کم نظر آتے ہیں تو کسی اور پہلو
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues