ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۲۵
سے وہ زیادہ دکھائی دیں گے۔
کانفرنس ۵ جولائی ۱۹۹۴ کو راشٹر پتی نواس (وائسر یگل لاج) کے ایک ہال میں شروع ہوئی۔ افتتاحی اجلاس میں سب سے پہلے ایک مرد اور ایک عورت نے مل کر گیتا (سنسکرت) کا ایک حصہ ترنم کے ساتھ پڑھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ کسی بھی مذہبی کتاب کی تلاوت میں وہ شان پیدا نہیں ہوتی، جو قرآن کی تلاوت میں پائی جاتی ہے۔ دوسری مذہبی کتابوں اور قرآن کو اگر ایک ساتھ پڑھا جائے تو صرف لفظی تلاوت ہی قرآن کی برتری ثابت کرنے کے لئے کافی ہو جائے گی۔ اس کے بعد مسز سونیا گاندھی نے افتتاحی خطبہ انگریزی میں پڑھا۔ اس کانفرنس میں تمام اعلی تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ اور اس کی تمام کارروائیاں از اول تا آخر انگریزی میں ہوئیں۔ شملہ کی اس کانفرنس کا افتتاح پرائم منسٹر نرسمہا راؤ کرنے والے تھے۔ مگر وہ کسی وجہ سے نہ آسکے۔ ان کا پیغام مرکزی وزیر ڈاکٹر من موہن سنگھ نے پڑھ کر سنایا۔ ان کے علاوہ مسز سونیا گاندھی، مسٹر نٹور سنگھ اور، ہماچل پردیش کے گورنر اور چیف منسٹر اور بہت سی اعلیٰ شخصیتیں اس میں شریک ہوئیں۔
اس طرح کی مختلف کانفرنسوں میں شرکت کے بعد میرا احساس یہ ہے کہ ہمارے ملک میں باشندوں کے اعتبار سے دو ملک پائے جاتے ہیں۔ ایک لور انڈیا، اور دوسرے اپر انڈیا۔ لور انڈیا ۹۹ فیصد لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ایک فیصد انگریزی دانوں کی سطح پر ایک اپر انڈیا ہے۔ یہاں ہر چیز بقیہ ملک سے مختلف ہے۔ یہ تقریباً وہی تقسیم ہے، جو برطانوی دور میں انگریزوں اور غیر انگریزوں کے درمیان پائی جاتی تھی۔
راشٹرپتی نواس کے بڑے ہال (ball room) کی ۲۵۰ کرسیاں سب کی سب بھری ہوئی تھیں ۔ بہت سے لوگ کناروں پر کھڑے ہوئے تھے۔ ہال میں داخل ہونے کے بعد میں اپنی نشست کی طرف خاموشی سے بڑھ رہا تھا کہ ایک کرسی پر بیٹھی ہوئی ایک معمر خاتون نے میرا نام پوچھتے ہوئے کہا :
Sir, due to your impressive personality, I want to know your name. ہال کے اندر تمام لوگ شاندار کپڑوں میں ملبوس تھے۔ میں اپنے سادہ کپڑے اور لمبی سفید
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues