ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۲۶
داڑھی میں ان کو ایک "درویش" دکھائی دیا۔ ہندو قوم فقیروں اور درویشوں کے حلیہ سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ غالب اسی طرح کے احساسات کے تحت مذکورہ خاتون نے میرے بارہ میں دریافت کیا۔
موجودہ وائسر یگل لاج جون ۱۸۸۸ میں بن کر تیار ہوا ۔ ۱۹۴۷ سے پہلے وہ وائسرائے کی رہائش گاہ تھا۔ آزادی کے بعد اس کا نام راشٹرپتی نواس رکھا گیا اور وہ گرمیوں کے موسم میں ہندوستانی صدر کی رہائش گاہ قرار پایا۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے اکتوبر ۱۹۶۵ میں اس کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز کے حوالے کر دیا ، اب اسی ادارہ کے دفاتر اس عمارت میں قائم ہیں۔ تاہم اب یہ عمارت جگہ جگہ سے خستہ ہو گئی ہے۔ اس کی دیکھ ریکھ (maintenance) کے لئے مرکزی حکومت سالانہ ۲۰ لاکھ روپیہ دیتی ہے ۔ مگر وہ ناکافی ہے۔ اور اس کے منتظم منسیال میری نے حکومت سے دو کروڑ ۲۰ لاکھ روپیہ کا مطالبہ کیا ہے۔ The viceregal lodge in Shimla which now houses the Indian Institute of Advanced Studies راشٹرپتی نواس (قدیم وائسر یگل لاج ، جہاں یہ کانفرنس ہوئی ، وہ بہت بڑا ہے اور عالی شان محل کی مانند ہے۔ اس میں تین سو سے زیادہ کمرے ہیں اور کئی بڑے بڑے ہال ہیں۔ وغیرہ، وغیرہ۔ مسٹر نٹور سنگھ نے اپنی تقریر میں اس بلڈنگ کی تاریخی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ ملک کی تقسیم کا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues