Al-Risala · March 1997 · page 27

ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۲۷

منصوبہ اسی عمارت کے ایک کمرہ میں مکمل کیا گیا تھا جو ہمارے اس ہال سے زیادہ دور نہیں ہے: The partition plan (1947) was finalised here in a room not far from this one. تاہم یہ سو سالہ عمارت اب کافی حد تک قابل مرمت ہو چکی ہے۔ اور عمارت کے ذمہ داروں کے پاس اتنا فنڈ نہیں کہ وہ اس کے شایان شان اس کی مرمت کر سکیں۔

اس کا نفرنس کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ گڈ سوسائٹی کیسے بنائی جائے۔ ایک صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ گڈ سوسائٹی کے بارہ میں فلسفی کا پرسپشن ایک ہے، اور کامن مین کا پرسپشن گڈ سوسائٹی کے بارہ میں دوسرا ہے۔ کیا یہاں اچھے سماج کا کوئی عالمی نظریہ پایا جاتا ہے: Is there a universal definition of a good society. اس طرح کے معاملات میں نظریاتی وحدت صرف مقدس کتاب کے ذریعہ لائی جاسکتی ہے۔ تعلیم یافتہ لوگوں کے مباحثہ کے ذریعہ ایسے معاملات میں نظریاتی وحدت حاصل کرنا ممکن نہیں۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر من موہن سنگھ نے حکومت کی جدید اقتصادی پالیسی (لبرلائیزیشن) پر تقریر کی۔ تقریر کے بعد لوگوں نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی خاص طور پر خواتین نے۔ کیونکہ با روزگار خواتین زیادہ تر پبلک سکٹر میں ہیں اور پبلک سکٹر کے ختم ہونے سے عورتوں کے لئے روزگار کے مواقع بہت کم ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر من موہن سنگھ (وزیر مالیات) نے نہایت جرأت کے ساتھ سوالات کا سامنا کیا۔ ایک صاحب سے میں نے کہا کہ من موہن سنگھ کی ایک صفت میں نے یہ دیکھی کہ انھوں نے کسی سوال کا جواب ٹالنے والے (evasive) انداز میں نہیں دیا۔ انھوں نے کہا: جو آدمی ڈبل ٹاک نہیں کرتا وہ کبھی ٹالنے والا جواب (evasive reply) نہیں دے گا۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم باہر پیسہ لانے کے لئے گئے تو ایک افسر نے ہم کو جواب دیا کہ ہنر اکسیسلنس، آپ کے ملک سے جتنا پیسہ باہر جا رہا ہے اس کو ملک میں روک لیجئے ۔ پھر باہر سے آپ کو پیسہ مانگنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ میں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ سے کہا کہ میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ پہلے شخص

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page