Al-Risala · March 1997 · page 28

ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۲۸

ہیں جو میرے خواب کو پورا کر رہے ہیں۔ 1950 میں جب جواہر لال نہرو نے سوشلسٹ پیٹرن آف سوسائٹی کا نعرہ دیا اس وقت سے میں اس کا مخالف رہا ہوں۔ میرے نزدیک ہندوستان کے تمام اقتصادی مسائل کا سبب یہی ہے۔ آپ بہا درانہ طور پر اس کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ جو لوگ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ سب سطحی سوچ کا شکار ہیں۔ آپ اس مہم کو جاری رکھئے۔ مستقبل میں لوگوں کی سمجھ میں آجائے گا کہ سوشلسٹ پالیسی کے مقابلہ میں لبرل پالیسی ہی زیادہ درست تھی۔ ہماچل پردیش کے چیف منسٹر راجہ ویر بھدر سنگھ نے اپنی تقریر میں ایک ہندو دعا کا ذکر کیا۔ اس کاانگریزی ترجمہ انھوں نے اس طرح سنایا :

Lead us from untruth to truth Lead us from darkness to light. Lead us from death to immortality. ہم کو غیر سچائی سے نکال کر سچائی کا راستہ دکھا۔ ہم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے آ۔ ہم کو موت سے نکال کر ابدیت میں لے آ۔

اس دعا کا آخری حصہ کس قدر مبہم ہے۔ موت خاتمہ حیات نہیں، وہ بجائے خود ابدی زندگی کا آغاز ہے۔ موت اگلے مرحلہ حیات میں داخلہ کا دروازہ ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ پولٹیکل سسٹم اور پولٹیکل کلچر کے درمیان بہت فرق ہے۔ ہمارے یہاں کہنے کے لئے ڈیموکریسی ہے۔ مگر ڈیموکریسی کی اسپرٹ ہمارے یہاں موجود نہیں۔ راستہ روکو، ریل روکو، یہ ڈیموکریسی ہوسکتی ہے۔ مگر یہ ڈیموکریٹک کلچر نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ ڈیموکریسی کے ساتھ ڈیموکریسی کی روایات بھی ضروری ہیں۔ ہمارے یہاں ڈیموکریسی تو آگئی۔ لیکن ڈیموکریسی کی روایات قائم نہیں ہوئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں ڈیموکریسی عملاً انارکی بن کر رہ گئی ہے۔

ایک صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ مغربی طرز فکر آج بھی ہمارے سماج پر غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے:

Western framework of thinking is dominating our society

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page