ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۲۹
ٹھیک اسی قسم کی باتیں پاکستان کا روایت پسند طبقہ بھی پاکستان میں دہرا رہا ہے۔ دونوں نے اولاً مغرب کو برا بتا کر اس کے سیاسی غلبہ سے نجات حاصل کی۔ مگر اس کے بعد صرف یہ ہوا کہ دونوں ہی نے دوبارہ مغرب کے تہذیبی غلبہ کو مزید شدت کے ساتھ قبول کر لیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مذہب کی ترقی رک جانے کا ایک سبب یہ ہے کہ مذہب میں سوال یا شبہ کو امر ممنوع سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ شبہ ثبوت کا آغاز ہے: Doubt is the beginning of proof. میں نے کہا کہ آپ اگر مذہب کے بجائے اہل مذہب کا لفظ بولیں تو مجھے اس سے اتفاق ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، وہ تو غور و فکر اور تحقیق کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اسی بنا پر دورِ اول میں مسلمانوں نے علم و تحقیق کے میدان میں غیر معمولی ترقیاں کیں۔ مگر مسلمانوں کی موجودہ نسلوں میں فکری زوال کی بنا پر ضرورت یہ ہے کہ وہ سوال اور تنقید سے بھڑکتے ہیں۔ اور اس کی قیمت انھیں اس صورت میں مل رہی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان علم و فن کر کے میدان میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے ہیں۔
ایک ہندوجرنلسٹ سے موجودہ جرنلزم پر گفت گو ہوئی۔ میں نے ہندوستانی جرنلزم کی سطحیت کی شکایت کی۔ انھوں نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اصل یہ ہے کہ ہمارے قومی مزاج سے آجکل محنت نکل گئی ہے۔ اس کا اثر جرنلزم پر بھی پڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آجکل تحقیقی صحافت (investigative journalism) نام ہے دو رپورٹ پڑھ کر ایک آرٹیکل لکھ دینے کا۔ اور اگر آپ نے تین رپورٹ پڑھ لی تو آپ ایوارڈ کے مستحق بن جائیں گے۔
ایک صاحب کمیونزم سے متاثر تھے۔ ان سے گفت گو ہوئی، مگر انھوں نے کمیونسٹ فکر کی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔ کمیونسٹ روس کی ناکامی کے بارہ میں انھوں نے کہا کہ کمیونسٹ سسٹم کے ٹوٹنے کو اس معنی میں نہیں لیا جا سکتا کہ تاریخ نے اشتراکی طرزِ معیشت کو رد کر دیا ہے: The collapse of communism should not be regarded as history's rejection of the socialist pattern. میں نے کہا کہ یہ دلیل صحیح نہیں۔ میں نے کہا کہ ایک شخص اگر یہ کہے کہ لوگوں کے اندر خوفِ خدا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues