ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۳۰
آجائے تو سماجی برائیاں مٹ جائیں گی تو اس نظریہ کی صحت کو اس سے جانچا جائے گا کہ خوفِ خدا آنے کے بعد سماجی برائی مٹی یا نہیں۔ مگر اشتراکیت کی بنیادفکری تبدیلی پر نہیں ہے بلکہ پیداوار اور تقسیم کے خارجی نظام کی تبدیلی میں ہے۔ اس لئے اگر خارجی نظام بدلنے کے باوجود سماجی برائیاں نہ مٹیں تو اس سے اشتراکیت کا نظریہ رد ہو جائے گا۔ اول الذکر کو جانچنے کا معیار فکری تبدیلی ہے اور ثانی الذکر کو جانچنے کا معیار خارجی ڈھانچہ کی تبدیلی۔ چوں کہ سوویت یونین میں خارجی ڈھانچہ کی تبدیلی کے باوجود سماجی برائیاں ختم نہیں ہوئیں، اس لئے سوویت یونین کی ناکامی خود اشتراکیت کی ناکامی کے ہم معنی قرار پائے گی۔
ایک صاحب نے مہاتما گاندھی کا یہ قول دہرایا کہ دنیا میں آدمی کی ضرورت کے لئے بہت کچھ ہے۔ مگر آدمی کی حرص کے لئے بہت زیادہ نہیں :
There was enough in the world for every ones's need but not for everyone's greed. یہ بات بالکل درست ہے۔ موجودہ دنیا آزمایش کے لئے بنائی گئی ہے۔ اس لئے یہاں اتنا ہی سامان رکھا گیا ہے جو آزمایش کے لئے ضروری ہو۔ انسان کی خواہشات کی لامحدود تکمیل کے لئے آخرت کی دنیا ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اپنی آزمایش میں پورے اتریں گے وہ آخرت میں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے لامحدود سامان پالیں گے۔
ایک صاحب نے کہا کہ اب دنیا بہت بدل چکی ہے۔ بیسویں صدی کے آخر میں خوش قسمتی سے امپیرلزم اور نسل پرستی انسانیت کے ایجنڈے پر نہیں ہیں۔ اب ایک نئے ورلڈ کی باتیں ہر طرف کی جارہی ہیں :
Colonialism, imperialism and racialism are fortunately no longer on the agenda of humankind. There is much talk of a new world order. یہ بات درست ہے کہ مختلف تجربات کے بعد اب انسانی ذہن کسی نئی چیز کی تلاش میں ہے. یہ نئی چیز مذہب کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی۔ سیکولر نظریات سب کے سب ناکام ہو چکے ہیں۔ اس نے دینِ حق کے لئے دوبارہ نئے مواقع دے دئے ہیں۔ مگر دینِ حق کو نئی دنیا میں عظمت کا مقام
‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues