Al-Risala · March 1997 · page 31

ٹوٹے شملہ کی زنجیر لینا ہے اب تو کشمیر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۳۱

دینا گن کلچر کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ وہ صرف دلیل کے زور پر ہی ہو سکتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ دین حق کو جدید انسان کے فکری مستوى پر پیش کیا جائے۔ اگر ایسا ہو سکے تو دین حق کو دوبارہ تاریخ میں واپسی سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔

دسمبر ۱۹۹۰ء میں جے پور میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کا ایک اجلاس ہوا۔ وہاں کچھ ہندوؤں نے یہ نعرہ لگایا : جو ہندو ہت میں بات کرے گا، وہی دیش پر راج کرے گا۔ کچھ اور ہندوؤں کو یہ نعرہ پسند نہیں آیا۔ انھوں نے اس کے خلاف اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ حتی کہ اگلے دن اجلاس ہوا تو انھوں نے نعرہ لگایا : جو راشٹر ہت میں بات کرے گا، وہی دیش پر راج کرے گا۔ (ہندوستان ٹائمس، سنڈے ایڈیشن، صفحہ (۲)

یہ واقعہ علامتی طور پر اس صورتحال کو بتا رہا ہے جو اس وقت ہندو قوم کے اندر موجود ہے۔ ان میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جن کی نمائندگی اول الذکر نعرہ میں ہو رہی ہے، اور دوسرے وہ جن کی نمائندگی ثانی الذکر نعرہ میں پائی جاتی ہے۔ اس معاملہ کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اسی کو قرآن میں قانون دفع کہا گیا ہے (البقرہ ۲۵۱، الحج (۴۰) یہ فطرت کا نظام ہے کہ وہ ایک کو دوسرے کے ذریعہ دفع کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی مفسد یا انتہا پسند کبھی زیادہ تک یا بہت دور تک اپنا کام نہیں کر پاتا۔ جب بھی کوئی شخص یا گروہ ایسا اٹھتا ہے تو فطرت کی طاقتیں اس کا مقابلہ کر کے اس کو پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔

اعلی تعلیم یافتہ افراد کے سیناروں کے بارہ میں میری رائے زیادہ اچھی نہیں۔ یہاں بھی میں نے اپنی اس رائے کا اظہار کیا۔ میرا تجربہ ہے کہ یہ لوگ زیادہ تر خوبصورت الفاظ کے فرضی قلعے بناتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی ذاتی زندگی میں آخری حد تک پریکٹیکل ہوتے ہیں۔ مگر سیمنار میں آتے ہی وہ آئیڈیلسٹ بن جاتے ہیں۔ اسی لئے ان کی باتیں خوبصورت الفاظ بکھیرنے کے سوا کوئی اور نتیجہ ظاہر نہیں کر پاتے۔ خوبصورت الفاظ سے میری مراد کیا ہے ، اس کی ایک مثال لیجئے۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں انڈیا کی اقتصادیات پر بولتے ہوئے کہا :

We have to see that the economy becomes sound and we are able to integrate with the global economy.

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page