Al-Risala · March 1997 · page 47

Use of force means his failure.

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۷، صفحہ ۴۷

(Hotel Pinewood) میں ٹھہرےے۔ یہ ایک خوبصورت ہوٹل ہے جو پہاڑی کے دامن میں بنایا گیا ہے۔

راستہ میں ڈاکٹر چاری نے کئی سبق آموز باتیں بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے جبلپور میں انگریز کلکٹر ہوا کرتا تھا۔ ایک بار شیعہ لوگوں نے آکر کلکٹر سے کہا کہ جس راستہ سے ہمارا تعزیہ گزرنے والا ہے وہاں ایک درخت کی شاخ سڑک کے اوپر آگئی ہے۔ ہم تعزیہ کی اونچائی کم نہیں کر سکتے۔ انگریز کلکٹر نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ ہم اس کو کٹوادیتے ہیں۔ کلکٹر کے آدمیوں نے دیکھ کر کلکٹر صاحب سے کہا کہ یہ درخت تو پیپل کا درخت ہے۔ اس کی شاخ کاٹی جائے گی تو ہندو لوگ بگڑ جائیں گے۔ اب کلکٹر کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے۔ آخر میں ایک تحصیلدار نے کہا کہ میری سمجھ میں ایک تدبیر آتی ہے میں اس کو استعمال کرتا ہوں۔

تحصیل دار نے ایک ہاتھی والے کو پکڑا اور اس سے کہا کہ تم اس مسئلہ کو حل کرو۔ ہاتھی والے نے اپنا ہاتھی اس سڑک پر چلایا۔ ہاتھی درختوں کی پتیاں اور شاخیں توڑتا ہوا مذکورہ پیپل تک پہنچا۔ یہاں ہاتھی والے نے اپنے ہاتھی کو کچھ دیر روکا۔ ہاتھی نے اپنی سونڈ اِدھر اُدھر گھمائی۔ آخر کار اس نے مذکورہ شاخ توڑ کر گرا دی۔ ہاتھی چوں کہ ہندوؤ ں کی نظر میں گنیش دیوتا کا روپ مانا جاتا ہے۔ اس لئے وہ ہاتھی کے عمل پر غصہ نہیں ہو سکتے تھے۔ چنانچہ شاخ راستہ سے ہٹ گئی۔ اور تعزیہ آسانی کے ساتھ اس سے گزر گیا۔ یہ سطریں واپسی میں ہوٹل پائن وڈ کے کمرہ نمبر ۱۰۳ میں بیٹھ کر لکھی گئیں۔

مسٹر چاری (سابق کلکٹر) نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ان کے چیف سکریٹری مسٹر ادتار تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ضلع کلکٹر کے پاس کسی معاملہ سے نمٹنے کے لئے اتنے زیادہ ذرائع ہوتے ہیں کہ فورس کا استعمال اس کے لئے ناکامی کے ہم معنی ہے:

Use of force means his failure.

میں اضافہ کروں گا کہ ہر آدمی کے پاس خدا کے دئے ہوئے اتنے زیادہ ذرائع ہیں کہ اس کے لئے طاقت کا استعمال اس کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ آدمی کی عقل بے حساب طاقتوں کا خزانہ ہے۔ یہ کلکٹر کی پولیس فورس سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ معاملہ پیش آنے کی صورت میں آدمی اگر حواس باختہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1997 All issues

Printed page