Al-Risala · January 1997 · page 17

بشرح صحیح البخاری ۳۰۶/۱۳ -

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۷

بشرح صحیح البخاری ۳۰۶/۱۳ -

حقیقت یہ ہے کہ علم کی راہ سے اسلام کی اشاعت کرنایا اسلام کا دفاع کرناسبیل اللہ کاسب سے بڑا کام ہے۔ اور صدقات (زکوٰۃ) کی رقم کا اس مد میں خرچ کیاجانا، خاص طور پر موجودہ زمانہ میں، اس کی سب سے اہم مد ہے۔

یہ ایک معلوم بات ہے کہ دین کے اکثر مسائل میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کی مدوں کے معاملہ میں بھی علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خود دور اول میں صحابہ و تابعین کے درمیان کثرت سے اختلاف پایا جاتا تھا۔ یہی ابتدائی اختلاف کے علماء تک منتقل ہوگیا۔ علماء ہی نے لکھا ہے کہ یہ اختلاف امت کے لئے عین رحمت ہے ۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے دین میں توسع کی صفت پیدا ہو گئی ہے ۔ اور اس بنا پر ہمارے لئے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ہم بدلتے ہوئے حالات میں شرعی احکام کو از سر نو منطبق کرسکیں ۔ اور ہر دور کے حالات میں اس کے موافق کوئی نہ کوئی حکم یاکسی نہ کسی کا قول پالیں۔ یہ دین اسلام کی ابدیت اور، ہمہ گیریت کا ایک یقینی ثبوت ہے۔

خلاصہ کلام

قرآن میں واضح طورپر بتایاگیا ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کو کن مدوں میں خرچ کیاجائے۔ یہ کل آٹھ مدیں ہیں ۔ فقراء، مساکین ، عاملین زکوٰۃ ، مؤلفۃ القلوب ، رقاب ، غارمین ، سبیل اللہ ابن السبیل ( التوبہ ۶۰ )

ان میں سات مدیں حاجاتی مدیں ہیں، اور ایک مد (سبیل اللہ) وہ ہے جس کو تحریکی مدکہا جاسکتاہے۔ حاجاتی مد سے مراد وہ مد ہے جو شخصی ضرورت سے تعلق رکھتی ہے۔ مختلف اسباب کے تحت کوئی شخص کبھی وقتی طور پر اور کبھی مستقل طور پر معاشی اعتبار سے ضرورت مند بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو زکوٰۃ کے فنڈ سے مالی مد فراہم کی جانی چاہئے ۔

سبیل اللہ کی مدد ایک تحریکی مد ہے۔ یعنی اسلام کو ایک دینی مشن اور فلاح انسانیت کی ایک اسکیم کی حیثیت سے جاری کرنا اور اس سلسلہ میں جو ضرورتیں پیش آتی ہیں، ان کو مالی تعاون دینا۔ یہ سبیل اللہ (اللہ کے راستہ) میں خرچ کرنا ہے۔ بقیہ مدیں اگر انسانی ضرورت سے تعلق

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page