تسبیح خواتین
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۷
تسبیح خواتین
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو خاص طور پر ایک تسبیح بتائی۔ یہ عام طور پر تسبیح فاطمہ کے نام سے مشہور ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم ۳۳ بار کہو: سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ پھر ۳۳ بار کہو: الحمد للہ، الحمد للہ۔ پھر ۳۴ بار کہو: اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ یہ سب ملا کر ایک سو بار ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں تمہارے لیے بہت زیادہ ثواب ہے۔ اس تسبیح کو تسبیح فاطمہ کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ ہی کو اس کی تلقین فرمائی تھی۔ لیکن غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ آپ نے حضرت فاطمہ کے واسطے سے امت کی تمام خواتین کو ذکر کا یہ قیمتی تحفہ عطا فرمایا ہے۔ بظاہر وہ تسبیح فاطمہ ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ تسبیح خواتین ہے۔
اصل یہ ہے کہ فطری طور پر عورتوں کا ایک خاص مزاج ہے۔ اس مزاج کی وجہ سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عورتیں جب اکٹھا ہوتی ہیں تو وہ فوراً ایک دوسرے کی باتوں کا غیر ضروری چرچا کرنے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ کسی نہ کسی کے بارہ میں جا بے جا باتیں ان کا موضوع گفتگو بن جاتی ہیں۔ یہ عورتوں کی ایک عام کمزوری ہے جس سے بہت کم عورتیں اپنے کو محفوظ کر پاتی ہیں۔
مذکورہ تسبیح عورتوں کو اس گناہ سے بچانے کی ایک تدبیر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح خواتین کو ایک اچھی مشغولیت دے دی ہے جس میں اپنے آپ کو مصروف کر کے وہ ثواب بھی حاصل کریں اور آخرت کے نقصان سے بھی بچ جائیں۔ خاص طور پر زیادہ عمر کی عورتوں کے لیے وہ اور بھی زیادہ اہم ہے۔ ایک عورت کی عمر جب بڑھتی ہے تو اس کے بعد اس کی عملی مصروفیت اسی نسبت سے کم ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے اپنے خالی وقت کا بہترین مصرف یہ ہے کہ وہ دوسروں کے بے جا تذکرہ میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ بلکہ تسبیح کی صورت میں خدا کا ذکر کرنے لگے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوگا کہ دنیا میں اس کو قلبی سکون حاصل ہوگا اور آخرت میں جنت کا ابدی آرام۔