خدمت
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۴
خدمت
کسی انسان کی انسانیت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ دوسرے انسان کی خدمت کرے ۔ وہ دوسرے انسانوں کی ضرورتوں میں ان کے کام آئے، وہ دوسرے انسانوں کو اپنے جیسا سمجھنے لگے ۔
موجودہ دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان کسی وجہ سے ضرورت مند ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ دوسرے لوگ اسے سنبھالیں اور اس کی مدد کر کے دوبارہ اس کو با عزت زندگی گزارنے کے قابل بنائیں ۔
اعلیٰ انسان صرف اپنے معاملات کو درست کر کے مطمئن نہیں ہو سکتا۔ وہ لازما چاہتا ہے کہ دوسروں کے معاملات کو درست کرنے میں بھی وہ اپنا حصہ ادا کرے۔ خدمت اور انسانی مدد کا جذبہ خدا کو بہت پسند ہے۔ جو لوگ اپنے عمل سے اس کا ثبوت دیں وہ بلاشبہ خدا کے محبوب بندے ہیں، آخرت میں خدا انھیں اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے گا۔
انسانی خدمت کے بے شمار میدان ہیں۔ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو دیکھے اور جہاں جس خدمت کی ضرورت محسوس ہو وہاں وہ اس خدمت کے لیے اپنے آپ کو استعمال کرے۔
انسانی خدمت کا یہ کام ہر ایک کو کرنا ہے۔ ایک شخص عملی طور پر دوسروں کا مددگار بن سکتا ہے تو وہ اپنے عمل سے دوسروں کو مدد پہنچائے۔ جو آدمی عملی مدد نہ کر سکتا ہو وہ اپنی زبان کو دوسروں کے حق میں استعمال کرے۔ وہ ان کو میٹھے بول کا تحفہ دے۔ جو آدمی اپنے آپ کو زبان سے خدمت کرنے کے قابل بھی نہ پائے وہ دل سے اس کی خیر خواہی کرے، وہ اپنی تنہائیوں میں اس کے لیے نیک دعائیں کرے ۔
ہر انسان کو دوسرے انسانوں کا مددگار بننا ہے۔ ہر انسان کو دوسرے انسانوں کی خدمت کرنا ہے۔ دوسروں کو دینے کے لیے جو بھی اس کے پاس ہے، وہی اس سے مطلوب ہے، اور اسی کو اسے دوسروں تک پہنچانا ہے۔ اسی کا نام خدمت خلق ہے۔