Al-Risala · May 1997 · page 15

کائنات

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۵

کائنات

کائنات کیا ہے۔ کائنات مطلو بات خداوندی کا مظاہرہ ہے۔ کائنات عمل کی زبان میں بتاتی ہے کہہ خدا کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا۔

کائنات پوری کی پوری ایک ہی محکم قانون پر چل رہی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے، کائنات کے تمام اجزاء حد درجہ ہم آہنگی کے ساتھ اپنا اپنا عمل انجام دے رہے ہیں۔ یہ اس بات کا سبق ہے کہ انسان کو بھی اسی طرح پوری ہم آہنگی کے ساتھ زمین پر اپنی زندگی کی تعمیر کرنا چاہیے۔

کائنات میں سورج چمک رہا ہے۔ یہ اس بات کا پیغام ہے کہ انسان دنیا میں روشنی دینے والا بنے نہ کہ اندھیرا پھیلانے والا۔ یہاں ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے ادھر سے اُدھر جارہے ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ لوگوں کے درمیان سے گزر و تو ہوا کے نرم جھونکے کی طرح گزر جاؤ۔ یہاں ہر طرف پانی کے چشمے جاری ہیں۔ وہ اپنی نرم موسیقی میں کہ رہے ہیں کہ تم بھی پانی کے نرم چشموں کی مانند رواں ہو جاؤ۔

کائنات میں درخت ہے جس سے لوگوں کو سایہ اور تراوٹ اور پھل اور پھول ملتا ہے۔ یہ اس بات کا فطری اعلان ہے کہ انسان کو بھی چاہیے کہ وہ بھی درخت جیسا مفید کردار اپنے اندر پیدا کر لے۔

کائنات میں ہر طرف بلا معاوضہ نفع رسانی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ ایک فطری نمونہ ہے جو ایک ایک انسان کو بتا رہا ہے کہ وہ دوسرے انسان کے درمیان کس طرح بے غرض اور نفع بخش بن کر رہے۔

کائنات میں بے شمار چیزیں ہیں مگر ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ کائنات کا ہر جز سر گرم ہے مگر وہ دوسرے سے نہیں ٹکراتا، یہ واقعہ بتاتا ہے کہ زمین پر انسان کو کس طرح رہنا چاہیے اور وہ ہے تنوع کے باوجود ہم آہنگ رہنا، سرگرمیوں کے باوجود ایک دوسرے سے نہ ٹکرانا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page