Al-Risala · May 1997 · page 16

مناظر ، داعی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۶

مناظر ، داعی

مناظرہ ایک کرتب ہے اور دعوت ایک اسلامی عمل مناظرہ ایک منفی کارروائی ہے اور دعوت ایک مثبت کارروائی مناظرہ اپنے عمل سے اپنے آپ کو خوش کرتا ہے، داعی وہ ہے جو خدا کو خوش کرنے کے لیے اٹھے۔

مناظر کا طریقہ یہ ہے کہ مخاطب کے اندر کمزوریاں تلاش کر کے اس کی مذمت کرے اور اس طرح اس کے اوپر اپنی فتح کا جھنڈا گاڑے ۔ اس کے مقابلہ میں داعی کا طریقہ یہ ہے کہ مخاطب کے اندر کوئی مشترک بنیاد تلاش کر کے اس سے قربت حاصل کی جائے اور پھر تدریج کے ساتھ اس کے فکر و عمل میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے ۔ مناظر صرف اپنی ذات کا خیر خواہ ہوتا ہے اور داعی اپنے ساتھ پورے معنوں میں مخاطب کا بھی خیر خواہ ۔

مناظر اور داعی میں وہی فرق ہے جو وکیل اور مصلح میں ہوتا ہے۔ وکیل کا مقصد دوسرے کے اوپر برتری ہوتا ہے اور مصلح کا مقصد صرف دوسرے کی خیر خواہی ۔ وکیل کا کام یہ ہے کہ وہ ایک فریق کے مقابلہ میں دوسرے فریق کو نیچا ثابت کرے۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ دلوں میں اتر کر لوگوں کو آمادہ کرے کہ وہ اپنی درستگی کی فکر کریں اور اپنے معاملات کو بہتر بنا لیں ۔ مناظرہ اور ڈیبیٹ اپنی ذات میں خود ایک برائی ہے۔ جب کہ دعوت کا مقصد یہ ہے کہ برائیوں کو حکیمانہ تدبیروں سے دور کیا جائے ۔ مناظرہ بازی ماحول کے اندر فکری آلودگی پیدا کرتی ہے، اور دعوت و تبلیغ سے لوگوں کے درمیان صفائی اور پاکیزگی کا ماحول قائم ہوتا ہے، مناظرہ تاریکی میں مزید تاریکی کا اضافہ ہے۔ دعوت تاریکی میں روشنی کا چراغ روشن کرنا ہے مناظرہ بازی لوگوں کے دماغوں میں منفی رجحانات کی پرورش کرنے والی ہے جبکہ دعوت و تبلیغ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی داخلی دنیا میں مثبت سوچ کی بہار آ جائے۔

مناظرہ کھلے ہوئے دروازوں کو بند کرنے والا ہے اور دعوت کا عمل بند دروازوں کو کھولنے والا مناظرہ صرف مناظر کی اپنی ذات کو فائدہ پہنچاتا ہے، جبکہ دعوت خود مدعو کی زندگی میں فائدوں کی بہار لے آتی ہے۔ مناظرہ اسلام میں ایک اجنبی چیز ہے، جبکہ دعوت سراپا اسلام کا ایک مطلوب عمل۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page