مناظر ، داعی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۷
سماجی ذمہ داریاں اور صحافت Social Responsibilities and Media آج کی اس میٹنگ کا موضوع بحث ہے۔ صحافت اور سماجی ذمہ داریاں۔ اس موضوع کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو شاید اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح آج کل ہمارے ملک میں جوڈیشیل ایکٹوزم زوروں پر چل رہا ہے، اسی طرح ضرورت ہے کہ اسی کے ساتھ یہاں ایک میڈیا ایکٹوزم بھی جاری کر دیا جائے۔ یہ بلا شبہ ایک اچھا آئیڈیا ہے۔ اور بعض دوسرے ملکوں میں اس کے کامیاب تجربے بھی کیے گئے ہیں۔ آج ہمیں سوچنا ہے کہ ہم اپنے ملک میں اس آئیڈیا کو کس حد تک واقعہ بنا سکتے ہیں۔
اگر چہ جس طرح جو ڈیشیل ایکٹوزم کی کچھ محدودیتیں (limitations) ہیں اسی طرح میڈیا ایکٹوزم کی بھی کچھ محدودیتیں ہیں۔ تاہم محدودیت موجودہ دنیا کا ایک عام قانون ہے۔ کوئی بھی ادارہ اس سے بچایا ہوا نہیں۔ حتی کہ گورنمنٹ یا پولیٹیکل پاور جس کو بظاہر کسی سماج کا سب سے زیادہ طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے اس کی بھی محدودیتیں ہیں۔ ایک حد پر جا کر پولیٹیکل پاور کا اختیار اسی طرح ختم ہو جاتا ہے جس طرح دوسرے تمام سماجی اداروں کا۔
اس لیے زیادہ بڑھی ہوئی توقع (over-expectation) میں پڑے بغیر ہم کو حقیقت پسندانہ انداز میں یہ جائزہ لینا ہے کہ سماج سدھار کے لیے میڈیا ایکٹوزم کی کیا اہمیت ہے اور اس کو کس طرح یہاں جاری کیا جا سکتا ہے۔