مناظر ، داعی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۸
کہا جاتا ہے کہ پریس ایک انڈسٹری ہے۔ والٹر پکن نے کہا کہ جس گاڑی بنانے والا گاڑی بنا کر نقل و حمل کو فروخت کرتا ہے ٹھیک اسی طرح اخبار کا مالک معلومات کو فروخت کرتا ہے ، اخبار نہ نصیحت ہے اور نہ پروپیگنڈا :
اصولی طور پر میں اس کو درست سمجھتا ہوں۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ بات ہوگی کہ اخبارات کو ریفارمر یا مارل ٹیچر کے معیار پر جانچا جائے ۔ تاہم بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ اس دنیا میں کسی چیز کو دوسری چیز سے مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ یہاں چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں ۔ اگر براہِ راست نہیں تو بالواسطہ طور پر ایک چیز کا اثر دوسری چیز پر پڑتا ہے ۔ جس طرح ڈاکٹر مریض کو ایک دوا دیتے ہوئے یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ تو نہیں۔ اسی طرح اخبار کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس کو انڈسٹری کے اصول پر چلاتے ہوئے یہ بھی دیکھا جائے کہ سماج کے اوپر اس کا کوئی بُرا اثر تو نہیں پڑے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی صحافت اس ضروری شرط کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ہماری موجودہ صحافت میں بنیادی خرابی یہ ہے کہ وہ عمومی خبر رسانی کے اصول پر نہیں چلائی جاتی بلکہ منتخب خبر رسانی (selective reporting) کے اصول پر چلائی جاتی ہے۔ اس صحافتی اصول کو اس مشہور فقرہ میں بتایا گیا ہے کہ کتا آدمی کو کاٹے تو خبر نہیں لیکن آدمی کتے کو کاٹے تو وہ خبر ہے : اسی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ ہمارے اخبارات کے نزدیک گرم خبر (hot news) تو خبر ہے لیکن جن خبروں میں گرمی اور سنسنی خیزی نہ ہو ان کو وہ اس طرح نظر انداز کر دیتے ہیں جیسے کہ وہ خبر ہی نہیں۔ گویا بری خبریں نیوز وردی ہیں اور اچھی خبریں نیوز وردی نہیں۔ اس انتخابی خبر رسانی نے ہمارے سماج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
میں ایک مثال دیتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے غالب اکیڈمی میں ایک جلسہ تھا۔ رام پور کے مسٹر طارق