مناظر ، داعی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۱۹
بوڑھی خاتون نے کہا: اشوک تو اتنا ہی اچھا ہے جتنا طارق۔ ٹھیک یہی واقعہ اشوک کے گھر میں ہوا۔ ایک عرصہ کے بعد ان کے گھر کی بوڑھی خاتون نے کہا: طارق تو اتنا ہی اچھا ہے جتنا اشوک ۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ تقریباً ہر مسلمان اور ہر ہندو اپنے روزمرہ ملنے والے کے بارے میں ایسی ہی رائے رکھتے ہیں۔ انفرادی سطح پر ہر ہندو اپنے ملاقاتی مسلمان کو اچھا سمجھتا ہے ۔ اسی طرح ہر مسلمان اپنے ملاقاتی ہندو کو اچھا خیال کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ طارق اور اشوک کے گھروں میں جو جملہ ایک ہندو فردا اور ایک مسلمان فرد کے بارے میں کہا گیا وہی جملہ دونوں طرف پوری کمیونٹی کے بارے میں کیوں نہیں کہا جاتا۔ دونوں فرقوں میں یہ الفاظ کیوں نہیں سنائی دیتے کہ مسلمان لوگ تو اتنے ہی اچھے ہیں جیسے ہندو یا ہندو لوگ تو اتنے ہی اچھے ہیں جیسے مسلمان۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ انفرادی سطح پر ایک ہندو یا ایک مسلمان جب ایک دوسرے کو جانتے ہیں تو وہ براہ راست انٹرایکشن کے ذریعہ جانتے ہیں۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کا مکمل تعارف حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس کمیونٹی کی سطح پر تعارف کا ذریعہ ہمارے اخبارات ہیں۔ ملکی اور قومی سطح کے واقعات کو ہم صرف اخباروں کے ذریعہ معلوم کرتے ہیں ۔ نہ کہ براہ راست میل جول کے ذریعہ۔
اب چونکہ اخباروں میں سلیکٹیو رپورٹنگ کا طریقہ رائج ہے۔ اس لیے عملاً یہ ہوتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں صرف جزئی حالات سے باخبر ہوتے ہیں۔ ہندو جب اخبار پڑھتا ہے تو اس میں وہ مسلم فرقہ کی صرف ”ھاٹ نیوز“ سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح مسلمان جب اخبار پڑھتا ہے تو وہ ہندو فرقہ کی صرف ”ھاٹ نیوز“ سے باخبر ہوتا ہے۔ اس طرح دونوں طرف غیر حقیقی ذہن بنتا رہتا ہے۔ ہندو سمجھتا ہے کہ مسلم فرقہ تو ایسا اور ایسا ہے ، دوسری طرف مسلمان سمجھتا ہے کہ ہندو فرقہ ایسا اور ایسا ہے۔ فرقوں کے بارے میں لوگ صرف بری خبروں کو جانتے ہیں وہ ان کی اچھی خبروں سے سرے سے واقف ہی نہیں ہوتے۔
یہی اس سماجی تضاد کا اصل سبب ہے کہ ایک ہی ملک میں ہندو اور مسلمان انفرادی طور پر