مناظر ، داعی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۰
ایک دوسرے کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں اور اسی ملک میں یکسوئی کی سطح پر وہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور تعصب کا شکار ہیں۔ اس نے ملک کو ناقابل بیان نقصان سے دوچار کیا ہے۔
اگر ہم ہندوستان میں بہتر سماج یا سچے میل ملاپ والا سماج بنانا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ ہم اس تضاد کو ختم کردیں۔ ہمارے اخبارات سماجی حالات کی مکمل رپورٹنگ کریں۔ وہ سماجی طبقوں کے بارے میں ایک دوسرے کی پوری تصویر دکھائیں۔ اور جب پوری تصویر سامنے لائی جائے گی تو یقینی طور پر وہی ہوگا جو آج بھی انفرادی سطح پر موجود ہے۔ جس طرح آج ہزاروں افراد ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اشوک تو اتنا ہی اچھا ہے جتنا طارق یا طارق تو اتنا ہی اچھا ہے جتنا اشوک ۔ اسی طرح آئندہ ہمارے کان یہ الفاظ بھی سننے لگیں گے کہ ہندو لوگ تو اتنے ہی اچھے ہیں جتنے مسلمان۔ اور مسلمان لوگ تو اتنے ہی اچھے ہیں جتنے ہندو ۔ اور پھر ہمارے سماجی مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے ۔
اب اس معاملہ کے دوسرے پہلو کو لیجئے ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، اخبارات انفارمیشن فروخت کرنے کی تجارت ہیں۔ مگر یہاں بھی، ہمارے ملک کے اخبارات ایک زبردست کوتاہی کا شکار ہیں۔ کچھ برس پہلے یورپ کا ایک اعلیٰ صحافتی وفد دہلی آیا۔ اس نے اخبارات کو دیکھ کر کہا تھا کہ انڈیا کے اخبارات تو ابھی تک اس صحافتی طرز پر چلائے جا رہے ہیں جو ہمارے یہاں انیسویں صدی میں رائج تھا۔ مگر اب وہاں وہ بالکل ختم ہو چکا ہے۔ اس نے کہا کہ پہلے ہمارے اخبارات پر سیاسی خبریں چھائی رہتی تھیں۔ مگر اب ہمارے یہاں سیاسی خبریں نمبر ۲ پر جا چکی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں قومی اور سماجی اہمیت کی خبریں نمبر ایک پر آگئی ہیں۔
یہ تبصرہ بالکل درست ہے ۔ ہمارے اخبارات ابھی تک اس پس ماندگی کا شکار ہیں مغرب کی ترقی یافتہ صحافت کے مقابلہ میں وہ تقریباً سو سال پیچھے ہیں۔ ہمارے اخبارات کے اسی ذوق کا یہ نتیجہ ہے کہ آج آپ ملک کے کسی گوشہ میں جائیں تو ہر جگہ لوگوں کو سب سے زیادہ سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے پائیں گے۔ یہ کوئی صحت مند علامت نہیں۔ صحت مند بات یہ ہے کہ لوگوں کو علمی ، سائنسی اور تمدنی معلومات ملیں اور لوگ ان پر بحث و گفتگو کریں ۔