Al-Risala · May 1997 · page 21

مناظر ، داعی

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۱

اس صحافتی ذوق کے جو نقصانات ہیں ان کی ایک مثال انٹرنیٹ (Internet) کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ انٹرنیٹ کی ابتدا تقریباً ۲۵ سال پہلے ۱۹۷۲ میں ہوئی۔ برسوں پہلے دنیا کے ڈیڑھ سو سے زیادہ ملک اس سے جڑ گئے ۔ وہ اس سے زبردست فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ مگر ہندستان میں انٹرنیٹ کا آغاز ابھی صرف اگست ۱۹۹۵ میں ہو سکا۔ آج بھی وہ اس معاملے میں سنگاپور اور کوریا جیسے چھوٹے ملکوں سے بہت پیچھے ہے۔

انٹرنیٹ جیسی مفید چیز کے معاملے میں ہندستان کے اس پچھڑے پن کا ذمہ دار کون ہے۔ غالباً بے ہمارے اخبارات ہی ہیں، جو اس پچھڑے پن کے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ہندستانی سماج کو انٹرنیٹ کے معاملے میں باخبر نہیں بنایا۔ اس معاملے میں انہوں نے ہندستانیوں کو ایجوکیٹ نہیں کیا۔ اسی لیے لوگ نہ بروقت اس کے فوائد کو سمجھ سکے اور نہ سماجی سطح پر اس کی مانگ پیدا ہوئی۔ اس لیے میں کہوں گا کہ ہمارے اخبارات کو پورے معنی میں معلومات کا تجارتی ادارہ بننا چاہیے۔ انہیں پولیٹیکل obsession سے نکلنا چاہیے جس طرح مغربی ملکوں کے اخبارات اس سے نکل کر باہر آ چکے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اخبار کو وسیع تر انسانی شعبہ کی حیثیت سے چلائیں۔ وہ سیاسی خبروں کے حصہ کو گھٹائیں۔ اور اس کے بجائے علمی ، سائنسی اور جدید تر ترقیاتی معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں اور اس قسم کے مضامین اور تبصرے زیادہ سے زیادہ شائع کریں۔ وہ ہندستانی معاشرے کو ایک سائنسی معاشرہ بنانے میں اپنا حصہ ادا کریں۔

ہندستان میں بڑے پیمانہ پر اسٹرکچرل تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ ۱۹۴۷ میں آزادی کا انقلاب، ۱۹۵۰ میں سوشلسٹک پیٹرن آف سوسائٹی بنانے کا فیصلہ، قومی حکومتوں کے قیام کے بعد ہزاروں اصلاحی قوانین کا پاس کیا جانا ۔ اسی طرح ، ۱۹۷۰ کا ٹوٹل ریولیوشن، وغیرہ ۔ مگر یہ تمام تبدیلیاں یکسر بے فائدہ ثابت ہوئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسٹرکچرل چینج کے نتیجہ خیز بننے کے لیے انٹلکچول چینج کی زمین درکار ہے۔ یہ فکری زمین سب سے زیادہ اخبارات بنا سکتے تھے ، انھوں نے یہ کام کیا نہیں۔ اسی لیے تمام اسٹرکچرل تبدیلیاں یہ نتیجہ ہو کر رہ گئیں۔

اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہمارا اخباری ادارہ اپنی رپورٹوں، اپنے فیچرس اور اپنے مضامین کے ذریعہ اس تعمیری ذمہ داری کو ادا کرے تاکہ ہمارا مستقبل ہمارے حال سے بہتر ثابت ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page