مناظر ، داعی
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۲
میڈیا فورم(Media (Media Relations Forum) جس کے تحت یہ میٹنگ کی گئی ہے وہ اسی صحافتی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہمارے ملک میں بہت سی صحافتی تنظیمیں موجود ہیں۔ مگر وہ زیادہ تر حقوق کے حصول کے لیے بنائی گئی ہیں۔ مگر میڈیا ریلیشنز فورم خصوصی طور پر صحافتی ذمہ داریوں کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے وہ خود صحافیوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے۔
ترقی یافتہ ملکوں میں ہر جگہ بڑی بڑی تنظیمیں قائم ہیں جو صحافت کی سماجی ذمہ داریوں (Social responsibilities) کے اصول پر مبنی ہیں۔ اور انھوں نے ان ملکوں میں صحافت کو سماجی اعتبار سے مفید بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ موجودہ تنظیم اسی نوعیت کی ایک طاقت ور صحافتی تنظیم ثابت ہوگی۔ وہ اس بات کی ایک ضمانت ہوگی کہ ہمارا صحافتی شعبہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ وہ سماج سے لینے کے ساتھ سماج کو دینے والا ادارہ بن جائے ۔ تا ہم میرا خیال ہے کہ اس قسم کی صحافتی تنظیم بنانا ہی اس مسئلہ کے حل کے لیے کافی نہیں ہے۔ کیونکہ موجودہ صحافت کا پور انشوونما اصلاً معلوماتی صحافت (informative journalism) کی حیثیت سے ہوا ہے۔ اب بظاہر یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کو اچانک ناصحانہ صحافت (suggestive journalism) میں تبدیل کر دیا جائے ۔ اس لیے یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہوگی کہ ہم یہ امید کریں کہ موجودہ صحافت کو ناصحانہ صحافت کے اصول پر چلایا جا سکتا ہے۔
مگر میرا تجربہ ہے کہ ایک صورت اور ہے جو موجودہ ڈھانچہ ہی میں ممکن ہے اور وہ پوری طرح مفید بھی ہے۔ وہ ہے صحافت کے ساتھ سوشل ورکرس کا تعاون۔ اگر ایسا ہو کہ سوشل ورکرس اور ریفارمرس اخباروں سے ربط رکھیں اور حسب ضرورت انھیں سماجی اہمیت والے امور کی طرف متوجہ کرتے رہیں تو مذکورہ مقصد بڑی حد تک حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلہ میں ذاتی طور پر کئی کامیاب مثالیں مجھے معلوم ہیں۔ مثلاً ۱۹۹۳ کے شروع میں جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں تناؤ کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی، پونہ میں ایک روزصبح کویہ افواہ پھیل گئی کہ رات کو کچھ مسلمان فلاں مندر میں گھسے اور انھوں نے وہاں رکھی ہوئی مورتیوں کو توڑ ڈالا۔ اس کے فورا بعد کچھ سماجی کارکن شہر کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبار کے ایڈیٹر سے ملے ۔