Al-Risala · May 1997 · page 28

Truth is One; Wise speak of it in many ways.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۸

ڈیٹا اکٹھا کر کے اندرونی بصیرت کو فراہم کرتی ہیں پھر بصیرت اس جمع شدہ ذخیرہ معلومات کی مدد سے گہرے نتائج تک پہنچتی ہے۔ اگر آنکھ کا مشاہداتی عمل رک جائے تو اندرونی بصیرت کا عمل ختم تو نہ ہو گا البتہ بہت زیادہ محدود ہو جائے گا۔

اس کانفرنس میں بہت بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ ہندو شریک تھے۔ کئی ہندوؤ ں نے اپنے مخصوص ذوق کے مطابق یہ بات کہی کہ سب دھر م ایک ہیں۔ لوگ ناحق مذہب کے نام پر آپس میں لڑتے ہیں۔ اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مذہبی اختلاف کا حل یہ نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سب مذہب ایک ہیں۔ اس کا حقیقی حل یہ ہے کہ ٹالرنس پر زور دیا جائے۔ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے نہ صرف مذہب میں بلکہ ہر معاملہ میں اختلافات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں پر امن سوسائٹی بنانے کا راز یہ ہے کہ لوگ اپنے عقیدے کو مانتے ہوئے دوسرے کا احترام کریں۔ گویا کہ اس مسئلہ کا حل باہمی اعتراف (mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام (mutual respect) میں ہے۔

پونہ کی کانفرنس میں شرکت کرنے والوں میں سے ایک پٹنہ کے ڈاکٹر احسان اشرف (368037 .Tel) بھی تھے ۔ ان کا مضمون فلسفہہ ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ میں اقبال کے فلسفہ پر ایک کتاب لکھ رہا ہوں۔

میں نے کہا کہ اقبال کو فلسفی کہنا بذات خود درست نہیں۔ اگر آپ اقبال کی اس کتاب (The Reconstruction of religious thought in Islam) کی بنا پر ان کو فلسفی کہیں تو میں کہوں گا کہ وہ فلسف کی کتاب نہیں ہے بلکہ علم کلام کی کتاب ہے ۔ اور فلسفہ اور علم کلام میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اور اگر آپ اقبال کے اشعار کی بنا پر ان کو فلسفی کہیں تو یہ اور بھی زیادہ عجیب ہے کیونکہ فلسفہ ایک انتہائی سنجیدہ نظام فکر کا نام ہے اور کسی سنجیدہ نظام فکر کو کبھی بھی درست طور پر شاعری کے ذریعہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔

ان سے دو دن ملاقات ہوئی پہلے دن وہ اس موضوع پر دیر تک اختلافی بحث کرتے رہے مگر جب اگلے دن ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں آپ کی بات پر غور کرتا رہا اور آخر میں یہ سمجھ میں آیا کہ آپ جو کہتے ہیں وہی ٹھیک ہے۔ اقبال کو فلسفی کہنے کے لیے سب سے پہلے خود فلسفہ کی تعریف کو بدلنا ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page