Truth is One; Wise speak of it in many ways.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۲۹
فلسفہ کیا ہے؟ فلسفہ دراصل حقیقت کے عقلی اور منطقی مطالعہ کا نام ہے۔ فلسفی اور سائنسداں میں یہ فرق ہے کہ سائنس داں فطرت کے قانون کو اصولی طور پر بطور واقعہ تسلیم کر کے اس کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں فلسفی کسی بھی چیز کو پیشگی طور پر واقعہ نہیں مانتا۔ وہ آزادانہ عقلی جستجو کے ذریعہ آخری حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے :
Philosophy is a logical and rational analysis of principles underlying the ultimate nature of the universe, and related fields. کچھ لوگ اسلام کو ایک فلسفہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام فلسفہ کے مشابہ علم نہیں ہے بلکہ سائنس کے مشابہ ایک علم ہے۔ اسلام میں حقیقت کا مطالعہ آزادانہ عقلی جستجو کے ذریعہ نہیں کیا جاتا جیسا کہ فلسفہ میں ہوتا ہے۔ بلکہ وحی کو مان کر اس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اسلام کا یہ طریقہ سائنسی طریق مطالعہ کے عین مطابق ہے۔ اسلام میں جس چیز کو عقیدہ کہا جاتا ہے اسی کا نام سائنس میں مفروضہ (hypothesis) ہے۔ سائنس داں فطرت کے اٹل نظام کی بنیاد پر ایک بات کو بطور نظری اساس (مفروضہ مان کر شواہد خارجی کا مطالعہ اور تجزیہ کرتا ہے۔ اور اس طرح ایک ایسی حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے جو اس کے عقیدہ یا مفروضہ کے مطابق پیشگی طور پر کائنات میں موجود ہے۔ ٹھیک یہی طریقہ اسلام کا ہے۔ اسلام کا ایک طالب علم وحی کو بطور نظری اساس تسلیم کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ شواہد خارجی کا مطالعہ شروع کرتا ہے۔ یہ بے لاگ مطالعہ آخر کار اس حقیقت کی تصدیق کر دیتا ہے کہ جس چیز کو اس نے بطور نظری اساس مانا تھا وہ عین صداقت تھی۔ یہ مطالعہ کا عین وہی اصول ہے جس کو موجودہ زمانہ میں سائنٹفک طریق مطالعہ کہا جاتا ہے۔
یہاں ایک نوجوان اسکالر، مسٹر گربخش سنگھ سے ملاقات ہوئی۔ وہ گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک قیمتی اسکالر شپ پر ٹوکیو میں ریسرچ کے لیے گئے۔ ان کا موضوع خاموشی (silence) کی سائنسی اور مذہبی اہمیت ہے۔ وہ ٹوکیو میں کومازاوا یونی ورسٹی انٹرنیشنل سنٹر کے تحت یہ کام کر رہے ہیں۔
میں نے ان کو ایک حدیث سنائی جس کو سن کر وہ بہت خوش ہوئے اور اسی وقت