Al-Risala · May 1997 · page 30

Truth is One; Wise speak of it in many ways.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۰

اپنے نوٹ بک میں درج کیا۔ وہ حدیث یہ ہے: من صمت نجا (جو چپ رہا اس نے نجات پائی) میں نے کہا کہ خاموشی کوئی سلبی فعل نہیں ہے ۔ بلکہ وہ ایک ایجابی فعل ہے۔ آدمی جب خاموش ہوتا ہے تو وہ دراصل اندرونی فکر میں مشغول ہو جاتا ہے۔ خارجی فکر آدمی کو بہت کچھ دیتی ہے مگر اندرونی فکر سے آدمی جو کچھ پاتا ہے وہ اپنی گہرائی کے اعتبار سے اس سے بھی زیادہ ہے۔ بنارس کے ڈاکٹر رام جی سنگھ سے ملاقات ہوئی۔ وہ وہاں گاندھیئن انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈیز کے ڈائرکٹر ہیں۔ (330871 ,330125 .Tel)

انھوں نے کہا کہ میں آپ کے مضامین اخباروں میں بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔ دیش میں سدھار لانے کے لیے آپ ہی جیسے سوچ والے انسان کی ضرورت ہے۔ یہ بات اکثر ہندوؤں نے مختلف الفاظ میں کہی۔

مسلم رہنما پچھلے پچاس سال سے ہندی اور انگریزی میں اپنا اخبار نکالنے کی بات کرتے رہے ہیں مگر موجودہ حالات میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ خود ان کے اخباروں میں مضامین شائع کیے جائیں۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ ملکی اخبارات ہمارے مضامین نہایت شوق سے چھاپنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ بشرط صرف یہ ہے کہ وہ وکیلانہ انداز میں نہ لکھے گئے ہوں بلکہ سنجیدہ اور سائنٹفک انداز میں لکھے گئے ہوں۔

ہمارا سٹڈ کے گورنر ڈاکٹر الگزینڈر ہند و فلسفی کے اسکالر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک معلوماتی تقریر کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندو ازم فل اسٹاپ میں یقین نہیں رکھتا حتی کہ کامامیں بھی نہیں۔ یہ سچائی کی تلاش کا ایک ابدی بہاؤ ہے:

Hinduism does not believe in full stop, not even comma. It believes in perennial flow of search for truth. بظاہر یہ ایک خوب صورت بات معلوم ہوتی ہے مگر وہ درست نہیں۔ یہ بیان اپنی نوعیت کے اعتبار سے خود بھی ایک فل اسٹاپ ہے۔ مذہب کے مختلف تصورات میں سے کسی ایک تصور کو حتمی قرار دینا اس تصور کو مطلق سچائی کا درجہ دینا ہے۔ جب کہ قائل کا دعویٰ یہ ہے کہ مطلق سچائی ابھی دریافت ہی نہیں ہوئی ۔ جو لوگ اس قسم کی بات کریں ان کے لیے علمی طور پر یہ درست نہیں کہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page