Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۱
وہ مذکورہ قسم کا ایجابی بیان دیں۔ اس کی بجائے انھیں اپنے آپ کو مشکک (sceptic) بنانا چاہیے۔ اپنے کو مشکک نہ کہہ کر مذکورہ بالا قسم کا بیان دینا گویا کہ اپنی پہلی بات کو خود اپنی ہی دوسری بات سے رد کردینا ہے۔
نوبیل فیملی کی ایک ممتاز شخصیت مسٹر کلیس نوبل بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ انھوں نے چیرمین کی حیثیت سے جو اسپیچ دی اس کے آغاز میں یہ مقولہ نقل کیا۔ جہاں بصیرت نہ ہو وہاں لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں :
Where there is no vision, the people perish.
ان کی تقریر کافی عالمانہ تھی۔ انھوں نے اس پر زور دیا کہ انسان کو فطرت کے قوانین کی پیروی کرنا چاہیے اسی میں اس کی کامیابی کا راز ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا کہ میں انتہائی حد تک زور دے کر کہوں گا کہ انسانی نسل کو قانون فطرت کے خلاف ورزی چھوڑنی پڑے گی ورنہ وہ خود حستم ہو جائے گی :
With all the emphasis I have at my command, I say: The human race must cease breaking the laws of Nature or Nature, will break us. وہ ایک عالمی تنظیم یونائیٹڈ ارتھ کے فاؤنڈر اور چیرمین ہیں۔
ایم آئی ٹی پونہ کا ایک ممتاز ٹیکنکل ادارہ ہے۔ اس کے فاؤنڈر ڈائرکٹر پروفیسر وی ڈی کراڈ (V.D. Karad) نے اپنی اسپیچ میں مذہب اور فلسفہ کے متعلق بہت سی باتیں کہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے تھامس ہارڈی کا یہ قول دہرایا کہ مذہب کا بنیادی مقصد یہ نہیں ہے کہ انسان کو جنت میں داخل کرے بلکہ یہ ہے کہ وہ جنت کو انسان کے اندر داخل کر دے :
The main object of religion is not to get a man into heaven; but to get heaven in him. مگر اصل حقیقت ان دو کے علاوہ ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مذہب انسان کو حسینی اوصاف کے ساتھ دنیا میں رہنا سکھاتا ہے تاکہ وہ آخرت کی جنت میں داخلہ کا استحقاق پاسکے۔ ایک اور بات انھوں نے یہ کہی کہ مذہب اور سائنس کا حقیقی اتحاد ہی انسان کو دنیا میں امن دے سکتا ہے :