Al-Risala · May 1997 · page 32

Where there is no vision, the people perish.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۲

چتریکھا وکیل جو مراٹھی اور گجراتی دونوں زبانوں میں نکلتا ہے اس کے نماینده ، ششی کانت سوانت نے ، ۲۷ نومبر کو انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسلام سرتاپا امن کا مذہب ہے۔ اسلام کی تمام سرگرمیاں پر امن جد و جہد کے اصول پر مبنی ہے اسلام میں جنگ کوئی ایجابی حکم نہیں وہ صرف دفاع کے لیے ہے اور وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے بچنے کی تمام ممکن کوشش ناکام ہو چکی ہو اور مقابلہ کے سوا کوئی دوسرا چارہ کارباقی ہی نہ رہے۔

میرا قیام جس ہوٹل میں تھا وہ مسلم آبادی سے الگ تھا۔ تاہم روزانہ کچھ نہ کچھ مسلمان یہاں آتے رہے اور ان سے گفتگو ئیں جاری رہیں ۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اور نگ زیب کے زمانہ سے لے کر اب تک مسلمانوں کا صاحب علم طبقہ مرہٹوں کو مسلمانوں کا حریف سمجھتا رہا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مسلمانوں اور مرہٹوں کے درمیان معتدل انسانی تعلقات قائم نہ ہو سکے۔ اس کا نقصان سب سے زیادہ خود مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔

میں نے کہا کہ اس سے پہلے مرہٹوں کا جوٹکراؤ پیش آیا وہ اصلا مغل حکومت سے تھا نہ کہ مسلمانوں سے۔ یہ ایک تباہ کن نظریہ ہے کہ مسلم وجود کی شناخت سیاسی اقتدار کو بنایا جائے ۔ سیاسی اقتدار ایک ایسی چیز ہے جس کے خلاف ہمیشہ رقابتیں جاری رہتی ہیں۔ حتی کہ خود اصحاب رسول کے زمانہ میں بھی شدید ترین نوعیت کی سیاسی رقابتیں ابھر آئیں۔ اور اس کی بنا پر زبر دست قتل و خون ہوا۔

ایسی حالت میں اگر سیاسی اقتدار کو مسلمانوں کے وجود ملی کی شناخت بنایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان ابدی طور پر وقت کے حکمرانوں سے ٹکراتے رہیں۔ اور اس کے نتیجہ میں انھیں کبھی وہ سکون حاصل نہ ہو جو ہر قسم کی ترقیاتی کاموں کے لیے انتہائی طور پر ضروری ہے۔ پونہ کے آٹھ روزہ قیام کے دوران مقامی مسلمانوں سے مسلسل ربط قائم رہا۔ انفرادی ملاقاتوں کے علاوہ ہر روز چھوٹے بڑے اجتماعات ہوتے رہے۔ ایک اجتماع ایک ہال میں ہوا ۔ کچھ مسجد میں اور کچھ لوگوں کے گھروں پر۔ ان اجتماعات کا مشترک موضوع یہ تھا۔ اسلام اور مسلمان عہد جدید میں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page