Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۳
ایک اجتماع میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمامت میں مسلم تحریکیں ضبط اعمال کا شکار ہو گئیں۔ اس کی خاص وجہ ہمارے رہنماؤں کا دہرامعیار ہے۔ مثلاً ہندوستان کا ہندو اگر ایک سے زیادہ شادی پر پابندی لگانے کی بات کرے۔ تو تمام بے ریش اور باریش رہنما اس کے خلاف پر شور تحریک چلانے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف خود مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہر گھر میں پہلی بیوی نے دوسرے نکاح کو عملاً پوری طرح بند کر رکھا ہے۔ میں نے حاضرین سے کہا کہ آپ میں سے جس کو میرے اس بیان پر شبہ ہو وہ اپنے گھر میں دوسری بیوی لا کر دیکھے۔ تمام حاضرین نے میری بات سے اتفاق کیا۔
میں نے کہا کہ یہ واضح طور پر ڈبل اسٹینڈرڈ کا معاملہ ہے۔ ایک مسئلہ اگر ہندو پیدا کرے تو ہمارے تمام چھوٹے اور بڑے رہنما بھڑک کر اس کے خلاف سر گرم ہو جاتے ہیں۔ مگر ٹھیک وہی مسئلہ مسلمان پیدا کرے تو کوئی بھی اس پر تحریک چلانے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔
جو کام اس دہرامعیار کے ساتھ کیا جائے اس کو کبھی بھی خدا کی مدد نہیں مل سکتی۔ اور نہ اس سے کسی با برکت نتیجہ کی امید کی جا سکتی ہے۔
پونہ میں جناب فاروق فیصل صاحب سے ملاقات ہوئی وہ گورنمنٹ سروس میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ناندیڑ( (مہاراشٹر) میں تبلیغی جماعت کا ریاستی جوڑ ۲۲۔ ۲۴ نومبر ۱۹۹۶ کو تھا۔ وہ خود بھی اس میں شریک تھے۔ انھوں نے بتایا کہ شارٹ سپلائی اسکیم کے تحت دوسرے مقامات کی طرح ناندیڑ میں بھی مختلف علاقوں میں باری باری بجلی کی کٹوتی کرتے رہتے ہیں۔ مگر تبلیغی جماعت کے اجتماع میں مسلسل تین دن تک بجلی کی سپلائی جاری رہی۔ انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ خود میرے سامنے سئیز پولیس انسپکٹر شری دیش مکھ نے بجلی محکمہ (ایم ایس ای بی) کے انجینئر کو بلایا اور اس سے کہا دیکھو یہاں مسلمانوں کا دھارمک کاریہ ہورہا ہے۔ ان دنوں میں یہاں بجلی کٹ نہ کرنا۔
پچھلے کچھ برسوں کے اندر ہندوستان کے مسلمانوں میں تعمیری کام کی ایک نئی لہر آئی ہے۔ اس کی ایک مثال پونہ بھی ہے۔ پونہ کے ایک مسلم تاجر نے بتایا کہ پونہ کے مسلمانوں نے پچھلے دس سال میں کافی ترقی کی ہے۔ تجارت اور صنعت دونوں میدانوں میں وہ مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کی کئی مثالیں انھوں نے بتائیں۔