Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۴
اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی پونہ کافی ترقی کر رہا ہے۔ یہاں ایک قدیم وقف تھا جس میں کافی بڑی زمین تھی مگر وہ تقریبا غیر استعمال شدہ پڑی ہوئی تھی۔ آج کل وہ جناب انعام دار صاحب کے زیر انتظام ہے اور انھوں نے اس کے اندر ایک پوری تعلیمی دنیا آباد کر دی ہے۔ وہ طلبہ کے داخلہ میں یا اساتذہ کے انتخاب میں صرف میرِٹ کو سامنے رکھتے ہیں۔ اس بنا پر ان کے تعلیمی اداروں کا معیار کافی اچھا ہے۔
پونہ کی کانفرنس میں میری جو تقریر تھی اس میں میں نے امن سے متعلق قرآن کی آیتیں اور حدیثیں پیش کیں ۔ اس پر ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔ آپ نے اسلام کے ایک جزئی پہلو کو پیش کیا۔ آپ نے اسلام کو اس کی جامعیت (Totality) کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ یہ تو ناقص نمائندگی تھی، اور دین کی ناقص نمائندگی ایک جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں نے کہا کہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اگر آپ کو اسلام کے تعارف کے طور پر ایک جامع کتاب لکھنا ہو تو اس میں آپ مختلف ابواب مقرر کر کے اسلام کی تمام تعلیمات بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔ مگر دعوت کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ دعوت میں ہمیشہ مخاطب کی رعایت کی جاتی ہے۔ مذکورہ قسم کی کتاب میں اگر اسلام کی فہرست احکام کو ملحوظ رکھا جائے گا تو دعوتی خطاب میں ہمیشہ سامعین کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں زیادہ تر دوسری نوعیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ اسی لیے ان میں عام طور پر وہی اسلوب کلام ملتا ہے جس کو آپ نے جزئی تعارف یا ناقص تعارف کا نام دیا ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں (المسلم مَنْ سَلِمَ الناس من لسانه ويده) اس طرح کی ہزاروں حدیثیں ہیں جن میں آپ نے اسلام کو جامع نظام کے طور پر پیش نہیں فرمایا بلکہ اسلام کے صرف کسی ایک پہلو کو پیش فرمایا۔ اسی کا نام مخاطب کی رعایت ہے۔ اور مخاطب کی رعایت اسلامی دعوت کا ایک اہم اصول ہے۔ مسلمانوں کی ایک مجلس میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں اپنے مزاج کے اعتبار سے ان فٹ ہو کر رہ گئے ہیں۔ آغازِ اسلام کے بعد ہزار سال تک مسلم دنیا میں بادشاہی کا دور رہا۔ اس زمانہ میں سارا لٹریچر حاکمانہ فضا میں بنا۔ موجودہ زمانہ میں جب مسلمانوں کا زوال ہوا تو ہمارے تمام رہنماؤں نے مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کا ایک ہی نسخہ دریافت کیا۔ وہ تھا ماضی کی عظمت کو بیان