Be realist and ensure your success
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۵
کہ اس کو آپ اطالین زبان میں لکھئے۔ انھوں نے ایک کاغذ پر حسب ذیل الفاظ لکھے: Vivere sempli cemente, pensare alla grande ایک اطالوی لڑکی میرے پاس آئی۔ اس نے کہا کہ میں عربی کی طالب علم ہوں۔ اور پھر اس نے عربی میں بولنا شروع کیا۔ اس نے بتایا کہ وہ روم کی یونیورسٹی میں عربی زبان کی تعلیم حاصل کررہی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس شعبہ میں سو سے زیادہ طالب علم ہیں۔ تاہم زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے ، یعنی ستر فیصد۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ عربی زبان کیوں پڑھ رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہمارا ملک عرب دنیا سے بہت قریب ہے۔ ہمارے اور عرب دنیا کے بیچ میں صرف بحر متوسط حائل ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم عربوں کی زبان اور ان کے کلچر کو جانیں۔
میں نے سوچا کہ دنیوی مقاصد کے لئے لوگ دوسروں کی زبان اور ان کے کلچر کے بارہ میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ مگر یہی چیز دعوتی مقصد کے لئے مسلمانوں میں پیدا نہ ہوسکی۔ کیر الا کے ایک عیسائی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا نام نادر نیتیا (Fr. Nithya) بتایا۔ وہ روم میں رہتے ہیں اور ایک مسیحی عالمی ادارہ میں سکریٹری ہیں۔ وہ نہایت باصلاحیت معلوم ہورہے تھے۔ مسیحی افراد نے بے شمار اعلیٰ قسم کے ادارے کھول رکھے ہیں۔ مسیحیت سے تعلق رکھنے والوں کو وہ ان اداروں میں باعزت جگہیں دیتے ہیں۔ اس طرح وہ باصلاحیت نوجوانوں کو اپنے ساتھ لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمارے یہاں اس قسم کے ادارے نہیں۔ اس لئے اپنی قوم کے باصلاحیت نوجوانوں کو ہم اسلامی خدمت کے کام میں مصروف بھی نہ کر سکے۔ ایک صاحب سے امن کے موضوع پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ امن کے حصول کے لئے واحد قابل عمل فارمولا صرف ایک ہے، وہ یہ کہ صورت موجودہ کو مان لیا جائے: The only workable formula for peace is to accept the status quo. انھوں نے کہا کہ پھر تو آپ ظلم کو ابدی لائسنس دے رہے ہیں۔ کیوں کہ صورت موجودہ کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ظلم کو ختم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ بلکہ ظلم کو اسی حالت میں باقی رہنے دیا جائے جیسا کہ وہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues