Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۵
کر کے انہیں اکسانا۔ اس طرح ماضی کا حاکمانہ مزاج حال میں بھی بدستور باقی رہا۔ مگر موجودہ زمانہ جمہوریت کا زمانہ تھا۔ بادشاہی دور میں غیر مشترک اقتدار کا ماحول ہوتا تھا۔ جمہوریت کے دور میں اشتراک اقتدار (Power sharing) کا ماحول ہے۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے عوام و خواص دونوں ہی اقتدار میں شرکت کے تصور سے ناآشنا ہیں۔ وہ جمہوریت کے دور میں حاکمانہ نفسیات کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔ اس سبب سے وہ دور حاضر میں بالکل ان فٹ ہو کر رہ گئے ہیں۔
قدیم حاکمانہ دور صرف اپنی رعایت کرنا جانتا تھا۔ جدید جمہوری دور دوسروں کی رعایت کا متقاضی ہے۔ قدیم دور میں بلا شرکت صرف اپنا اقتدار تھا۔ اب نئے زمانہ میں دوسروں کی شرکت کے ساتھ روادارانہ نظام پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ مگر مسلمانوں کے مقررین اور محررین نے ان کے اندر نئے حالات کے مطابق ذہن نہیں بنایا۔ اس کے بھیانک نتائج ہر مسلم ملک اور ہر مسلم معاشرہ میں پیش آرہے ہیں۔
ایک خطاب میں میں نے کہا کہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ امت محمدی کا ثواب زیادہ ہے۔ یہ سادہ طور پر کوئی فضیلت کا معاملہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ امت محمدی کی ذمہ داری زیادہ ہے اس لیے اس کا انعام بھی زیادہ ہے۔ پچھلی امتوں کی نجات کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ عبادت اور اخلاق کے معیار پر پورے اتریں۔ مگر امت محمدی کی ایک اور لازمی ذمہ داری ہے اور وہ غیر اقوام میں حق کا پیغام پہنچانا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو گئی مگر کار نبوت بدستور باقی ہیں۔ یہ کار نبوت دعوت الی اللہ ہے۔ پچھلے زمانوں میں پیغمبر براہ راست طور پر دعوت کا کام کرتے تھے۔ اب ختم نبوت کے بعد امت محمدی کو آپ کی نیابت میں یہ کام انجام دینا ہے۔ اس طرح چونکہ ان کی ذمہ داری زیادہ ہے اس لیے ان کا ثواب بھی زیادہ ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پچھلی امتوں کی نجات اگر ایک عمل پر موقوف تھی تو اب امت محمدی کی نجات کا انحصار دو عمل پر موقوف ہو گئی ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ یہ تو بہت مشکل معاملہ ہے۔ ہر مسلمان دعوت کا کام کس طرح کر سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ عام شرعی اصول کے مطابق یہ ذمہ داری بھی حسب استطاعت ہے۔ اصل