Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۶
یہ ہے کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے تین مرحلے ہیں۔ پہلا مرحلہ نیت کا ہے۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو مخالف دعوت اعمال سے روکنا ہے اور تیسرا مرحلہ براہ راست دعوت دینے کا ہے۔ جس مسلمان یا جس مسلم گروہ کی جو استطاعت ہوگی اسی کے مطابق اس سے خدا کا مطالبہ ہوگا۔ نیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دل میں دعوت کی سچی تڑپ پیدا ہو جائے اور اس کا معیار یہ ہے کہ آپ اپنی تنہائیوں میں مدعو کی ہدایت کے لیے دعا کرنے لگیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ہر اس کارروائی سے اپنے کو بچایا جائے جو داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور کشیدگی پیدا کرنے والی ہو۔ اس معاملے میں مسلمان کا حال یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے لیے یک طرفہ نقصان کو برداشت کر لیں مگر وہ کوئی ایسی تحریک نہ اٹھائیں جو داعی اور مدعو کے تعلقات کو غیر معتدل بنانے والی ہو۔ تیسری چیز براہ راست دعوت ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس کی آسان صورت یہ ہے کہ اس کام کو دعوتِ اسلام کے نام پر کرنے کے بجائے تعارفِ اسلام کے نام پر کیا جائے۔ عنوان کا یہ فرق ایک نیا دعوتی امکان ہے جو جدید تبدیلیوں کے نتیجہ میں ہمارے لیے پیدا ہوا ہے۔
کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے ان کے موقف میں ایک عجیب تضاد محسوس کیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگوں کا عجیب حال ہے۔ اگر میں عقلی دلیل سے کوئی بات کہوں تو آپ کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث کی دلیل لاؤ۔ اور جب میں قرآن و حدیث کی دلیل پیش کرتا ہوں تو آپ اس کے خلاف اپنی عقلی قیاسات پیش کرنے لگتے ہیں۔
یہ حال ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنے مانوس افکار میں جیتے ہوں اور سچائی کو جاننے کے لیے سنجیدہ نہ ہوں۔ انھیں وہی بات اپیل کرتی ہے جو ان کے اپنے ذہن کی تصدیق کر رہی ہو۔ جو چیز ان کے مانوس ذہن سے ٹکرائے وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ خواہ کتنی ہی زیادہ دلیل ان کے سامنے پیش کر دی جائے۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ان کی غلط فکری ہے۔ اور غلط فکری کی وجہ یہ ہے کہ وہ صحیح معیار اور غلط معیار کے فرق کو نہیں جانتے۔ مثلاً کسی سے غیر مسلموں میں دعوت کی بات کیجئے تو وہ فوراً کہے گا کہ ابھی تو مسلمانوں ہی کی اصلاح نہیں ہوئی تو غیر مسلموں میں دعوت کا کام کیسے کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ دعوت کا یہ معیار