Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۷
ہی نہیں کہ مسلمان سب کے سب اصلاح یافتہ ہو جائیں تب وہ دعوت عام کا کام کریں۔ دعوت بذات خود مطلوب ہے جس طرح نماز خود مطلوب ہے۔ مسلمانوں کے اصلاح یافتہ ہونے یا نہ ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
اسی طرح اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی کسی روش پر انہیں نصیحت کیجئے تو فوراً اپنے اکابر کا قول اپنی تائید میں پیش کر دیں گے۔ حالاں کہ دین میں اکابر کا قول معیار نہیں ہے بلکہ قرآن و حدیث کو واحد معیار کا درجہ حاصل ہے۔ مسلمانوں کو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ استدلال کا صحیح معیار کیا ہے۔ اس کے بعد ہی ان کے اندر صحیح سوچ اور صحیح فیصلہ کی صفت پیدا کی جاسکتی ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ موجودہ زمانہ میں مسلموں میں بہت بڑی بڑی جماعتیں اور تحریکیں موجود ہیں۔ مسلمانوں کی بیشتر تعداد کسی نہ کسی طور پر ان سے جڑی ہوئی ہے۔ مگر دین کی اصل روح (تقویٰ) کہیں نظر نہیں آتا۔ میں نے کہا کہ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ تحریکیں تقویٰ کے اصول پر اٹھائی ہی نہیں گئیں۔ پھر ان سے تقویٰ کا نتیجہ کیوں کر برآمد ہو سکتا ہے۔
آپ غور کیجئے تو تمام تحریکیں اور جماعتیں دین کے مظاہر پراٹھائی گئیں نہ کہ دین کی روح (اسپرٹ) پر۔ کسی نے مظاہر عبادت کو، کسی نے مظاہر شرک کو، کسی نے مظاہر سیاست کو، کسی نے کسی اور مظاہر کو۔ چنانچہ ہر جماعت اور ہر تحریک میں مظاہر کی دھوم دکھائی دے رہی ہے۔ دین کی روح یا دین کی اسپرٹ کسی کا نشانہ نہیں۔ اسی لیے ان کے یہاں نہ روح دین پر زور ہے اور نہ ان سے وابستہ لوگوں میں اس کی جھلک نظر آتی ہے۔ روح پر زور دیا جائے تو روح اور مظاہر دونوں پیدا ہوں گے۔ اور اگر صرف مظاہر پر زور دیا جائے تو مظاہر تو پیدا ہو جائیں گے مگر اصل روح کا کہیں وجود نہیں ہوگا۔
ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ کی مخالفت اب کا فی کم ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ یوں نہ کہئے۔ بلکہ یہ کہئے کہ بعض غلط فہمیاں دور ہوگئیں اس لیے مخالفت بھی ختم ہو گئی۔ مثلاً ہندوؤں کے اجتماعات میں میری شرکت کو کچھ لوگوں نے اس معنی میں لے لیا تھا کہ میں ہندو نوازی کر رہا ہوں۔ مگر اس کی جو رپورٹیں چھپی ان کو دیکھ کر لوگوں نے جانا کہ میں وہاں اس لیے جاتا ہوں کہ اسلام کا مثبت تعارف پیش کروں اور اس کے خلاف ان کی غلط فہمیوں کو دور کروں۔ یہ جاننے کے بعد لوگ اپنے آپ مطمئن ہو گئے۔