Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۸
الرسلہ کے ایک قاری نے سوال کیا کہ آپ باتوں کو پیشگی طور پر کیسے جان لیتے ہیں۔ آپ نے لکھا تھا کہ افغان، روس لڑائی جب ختم ہوگی تو افغانی لوگ آپس میں لڑنا شروع کر دیں گے، اور واقعہ ایسا ہی ہوا۔
اسی طرح آپ نے لکھا تھا کہ بابری مسجد کا ڈھایا جانا فل اسٹاپ ہے وہ کام نہیں ہے اور اس معاملہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا ہی پیش آیا ہے۔
اسی طرح جب تمام لوگ فرقہ وارانہ فساد کے بارے میں یہ کہہ رہے تھے کہ وہ صرف حکومت کے روکنے سے رکے گا اس وقت آپ نے یہ کہا کہ مسلمان اگر صبر و تحمل کی پالیسی اختیار کر لیں تو فرقہ وارانہ فساد کا بم اپنے آپ نا کارہ ہو کر رہ جائے گا، اور اس معاملے میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسا ہی پیش آیا۔ اب ایک عرصہ سے مسلمان اس معاملے میں صبر و تحمل سے کام لے رہے ہیں چنانچہ فرقہ وارانہ فساد بھی عملاً تقریباً ختم ہو گیا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں ہے۔ آپ بھی اسی طرح باتوں کو پیشگی طور پر جان سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ اپنے اندر غیر متعصبانہ اور غیر جانبدارانہ طرز فکر پیدا کر لیں۔ بابری مسجد کے معاملہ کو دوسرے لوگ اس لیے نہیں سمجھ پائے کہ وہ ہند و نفرت میں مبتلا تھے ۔ یہ نفرت اصل بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بن گئی۔ میں خدا کے فضل سے ہند و نفرت سے خالی تھا۔ اس لیے میں اس کی حقیقت سمجھنے میں کامیاب ہو گیا۔ اسی طرح افغانستان کے معاملہ کو سمجھنے سے دوسرے لوگ اس لیے قاصر رہے کہ وہ افغانی لڑائی کو جہاد فی سبیل اللہ سمجھ بیٹھے تھے۔ میں اس قسم کی خوش فہمی میں مبتلا نہیں تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ ساری جنگ قبائلی جذبہ کے تحت ہو رہی ہے نہ کہ خدائی جذبہ کے تحت۔ اسی لیے مجھے اس کی اصل حقیقت کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ یہی معاملہ فرقہ وارانہ فساد کا بھی ہے لوگ اس کو ظلم اور تعصب اور سازش کی اصطلاحوں میں دیکھ رہے تھے اس لیے وہ معاملے کو زیادہ گہرائی سے سمجھ نہ سکے۔ میں نے خالی الذہن ہو کر اس کو فطرت کے قانون کی روشنی میں دیکھا اس لیے میں اس کی تہہ تک پہنچ گیا۔
ایک مجلس میں گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ کسی شخص کے اندر اعلیٰ انسانیت موجود ہے یا نہیں، اس کا ایک معیار مقرر کرنا ہو تو وہ اعتراف ہو گا۔ اور اگر دو معیار مقرر کرنا ہو تو اعتراف اور احسان مندی۔ اس میں شک نہیں کہ دلیل سامنے آنے کے بعد فوراً اس کے وزن کو محسوس کرنا اور اپنی غلطی کا اعتراف