Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۳۹
کر لینا اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے۔ اسی طرح کسی شخص سے دوسرے آدمی کو فائدہ پہنچے تو اس فائدہ پہنچانے والے شخص کا احسان مند ہونا اعلیٰ ترین انسانی خصوصیت ہے۔
پونہ میں کچھ لوگوں سے دعوت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ اکثر لکھتے ہیں کہ مسلمان دعوت کا کام نہیں کر رہے ہیں حالاں کہ واقعہ یہ ہے کہ آج دعوت کا کام ساری دنیا میں ہو رہا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ قول، قرآن کے الفاظ میں یحبون ان یحمدوا بمالم يفعلوا (۳ : ۱۸۸) کا مصداق ہے۔ یعنی ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا جس کو آدمی نے کیا نہ ہو۔
میں نے کہا کہ دعوت کا سر چشمہ محبت انسانی ہے، اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں محبت انسانی کا بظاہر وجود ہی نہیں۔ اور جب انسان سے محبت ہی نہ ہو تو اس کو آپ دعوت حق کا مخاطب کس طرح بنا سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ پریس کا دور آنے کے بعد ۱۹ ویں اور ۲۰ ویں صدی کے درمیان مسلم اہل قلم نے کروڑوں کی تعداد میں کتابیں شائع کی ہیں مگر آپ اردو، انگریزی، عربی اور فارسی میں کسی ایک کتاب کی بھی نشان دہی نہیں کر سکتے جو حقیقی معنوں میں محبت انسانی کے موضوع پر لکھی گئی ہو۔ اسی طرح اس دور میں بے شمار تعداد میں جلسے کیے جا رہے ہیں مگر میرے علم کے مطابق کوئی ایک بھی مسلم جلسہ نہیں جس کے پیچھے حقیقتاً محبت انسانی کا جذبہ کام کر رہا ہوں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا واحد اثاثہ ان کا قومی فخر ہے۔ ان کے درمیان وہی تحریکیں اور جماعتیں فروغ پاتی ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان کی نخوت قومی کی تصدیق کر رہی ہوں۔ اور جو تحریک یا جماعت ان کی قومی نخوت کو اپیل نہ کرے وہ ان کے درمیان فروغ بھی نہیں پاتی۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان سے محبت کرنا خود ایک عبادت ہے۔ وہ اسلامی اخلاق کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔ مگر موجودہ مسلمانوں میں اسلام کا یہ پہلو کامل طور پر اجنبی ہے۔ اسی کا ایک ظاہر ہ ساری دنیا میں یہ دکھائی دیتا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم کوئی ایسی بات کہہ دے جو مسلمانوں کے قومی وقار سے ٹکراتی ہو تو وہ فوراً سپر سر اس کے خلاف متشددانہ تحریک شروع کر دیتے ہیں۔ آج سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کا یہ مزاج ختم کیا جائے۔ غیرمسلموں کے تئیں یہ مزاج رکھتے ہوئے وہ دعوتی کام کے اہل ہی نہیں۔ انھیں غیرمسلموں کے حق میں یک طرفہ طور پر خیر خواہ اور متحمل بننا پڑے گا۔ ورنہ وہ خدا کے یہاں اس بات کے مجرم قرار پائیں گے کہ انھوں نے خدا کی مخلوق کو خدا کا پیغام پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔