Al-Risala · May 1997 · page 40

Where there is no vision, the people perish.

الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۰

ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ فقہ کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ جس چیز کے بغیر کسی واجب کو پورا نہ کیا جا سکتا ہو وہ بھی واجب ہو جاتا ہے (ما لا يتم الواجب الا بہ فھو واجب) مثلاً سمت کا علم اگر نہ ہو تو بیرونی علاقے کے لوگوں کے لیے قبلے کے رخ کا تعین کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اس لیے جس طرح نماز میں قبلے کی طرف رخ کرنا ضروری ہے اسی طرح سمت کے علم کا حصول بھی ضروری ہے تاکہ قبلے کے رخ کا تعین ہو سکے ۔

یہی معاملہ دعوت کا ہے ۔ دعوت کا کام صحیح طور پر صرف اس وقت انجام دیا جاسکتا ہے جبکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات ہوں ۔ اس لیے داعی کو مدعو وہ پر جس طرح دعوت دینا لازم ہے۔ اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان تعلق کو بگڑنے نہ دے۔ وہ یک طرفہ کوشش کے ذریعہ دونوں کے درمیان تعلق کو برقرار رکھے ۔ کیوں کہ اس کے بغیر دعوت کے عمل کی بجا آوری ممکن ہی نہیں ۔

پونہ کے ایک صاحب نے ایک پاکستانی عالم کی ایک کتاب دکھائی وہ شرک کے بارے میں تھی۔ اس میں شرک کی چند قسمیں بتائی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک سیاسی شرک بھی تھا۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ”سیاسی شرک“ کا تصور اسلام میں ایک اضافہ ہے جو میرے نزدیک ناقابل معافی جسارت ہے۔ اس قسم کی بات حضرت علیؓ کے زمانہ میں خوارج نے کی تھی۔ اس کے بعد پوری اسلامی تاریخ میں کبھی بھی ایسی بات نہیں کہی گئی۔ موجودہ زمانہ میں کچھ نام نہاد مفکرین نے خوارج کے نظریہ کو از سر نو سیاسی شرک کے نام سے زندہ کیا ہے ۔

میں نے کہا کہ شرک سیاسی کا نظریہ اتنا ہی بے اصل ہے جتنا کہ نبوت ظلی کا نظریہ ۔ دونوں یکساں طور پر قابل رد ہیں۔ اس قسم کے نظریہ کی تبلیغ ایک فتنہ ہے نہ کہ اسلام کی کوئی خدمت ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی نظریہ نے ساری دنیا میں مسلمانوں کو حکمراں طبقہ سے ٹکرار کھا ہے جس کے نتیجہ میں اسلام کے خلاف اتنی زیادہ نفرت پیدا ہوگئی ہے کہ دعوت توحید کا کام کرنا ہی سخت مشکل ہو گیا ہے ۔ الرسالہ میں ایک مسلم شخصیت کی ایک بات پر تنقید چھپی تھی۔ اس پر ایک صاحب نے شکایت کی گفتگو کے دوران انھوں نے جوش میں آکر کہا: وہ اتنے بڑے تھے کہ ان سے کوئی چھوٹا بھی نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1997 All issues

Printed page