Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۱
میں نے کہا کہ یہ تو صرف آپ کے کچھ الفاظ ہیں۔ یہ کوئی دلیل نہیں۔ اگر صرف لفظ ہی بولنا ہو تو دوسرا شخص کہہ سکتا ہے کہ: وہ اتنے چھوٹے تھے کہ ہر شخص ان سے بڑا ہے۔
آج کل اس طرح کا استدلال عام ہے۔ لوگ ادبی انداز میں کچھ الفاظ بول دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل دی۔ حالاں کہ الفاظ خواہ وہ نحو اور صرف کے لحاظ سے کتنا ہی درست ہوں، حقیقت کے اعتبار سے وہ بالکل بے معنی ہو سکتے ہیں۔ اوپر کے دونوں جملے اسی کی ایک مثال ہیں۔ استدلال نام ہے حقائق کی بنیاد پر علمی اور منطقی تجزیہ کرنے کا نہ کہ محض کچھ الفاظ بول دینے کا۔ حیدر آباد کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے بارے میں حیدر آباد کے اردو اخبار میں یہ چھپا ہے کہ آپ نے حال میں حیدر آباد کا خفیہ دورہ کیا۔ اس کے پیچھے کوئی یہودی سازش کارفرمانظرآتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک لغو بات ہے۔ میں نے زندگی میں کبھی کوئی خفیہ دورہ نہیں کیا۔ نہ حیدر آباد کا نہ کسی اور جگہ کا۔
پھر میں نے پوچھا کہ آپ کس طرح کہتے ہیں کہ وہ خفیہ دورہ تھا ۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے حیدر آباد کے دورہ کی خبر وہاں کے اخباروں میں نہیں چھپی۔ میں نے کہا کہ آپ یہاں اپنے بیان کے مطابق ایک دورہ پرآئے ہیں مگر آپ کے آنے کی کوئی اطلاع یہاں کے اخبارات میں نظر نہیں آئی۔ پھر کیا آپ کا یہ دورہ کوئی خفیہ دورہ ہے ۔ وہ خاموش ہو گئے۔
رات کو فجر سے پہلے چار بجے سو کر اٹھا۔ وضو کر کے دو رکعت نماز لمبی قرأت کے ساتھ پڑھی۔ اس کے بعد اپنے کمرہ میں بیٹھا تو اچانک یاد آیا کہ شتری گر دگولو الکرا اور مسٹر ارن شوری نے لکھا ہے کہ ایک گڈ مسلم کبھی گڈ انڈین نہیں بن سکتا۔ یہ سوچتے ہوئے بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے کہ یہ لوگ انسان کو کتنا کم جانتے ہیں۔ ان سے کہیں زیادہ انسان سے واقف انیسویں صدی کا امریکی شاعر والٹ وہٹ مین (Walt Whitman) تھا جس نے کہا کہ :
I am large enough to contain all these contradictions. میں یہ کہہ رہا تھا اور رو رہا تھا کہ بخدا میں ایک گڈ مسلم ہوں اور اسی کے ساتھ میں گڈ انڈین بھی ہوں۔ یہ میری شرافت انسانی کی توہین ہے کہ یہ کہا جائے کہ میں جس ملک میں پیدا ہوا، اس کا میں اچھا شہری نہیں ہوں۔ وطن کی محبت ایک خالص فطری جذبہ ہے۔ اور جس چیز کی جڑیں خود فطرت انسانی میں ہوں اس