Where there is no vision, the people perish.
الرسالہ، مئی ۱۹۹۷، صفحہ ۴۲
سے کوئی انسان کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔
میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر مہاتما گاندھی پیدا ہوں اور کہیں کہ میں تم کو گڈ انڈین ہونے کا سرٹیفکٹ دیتا ہوں تو میں ایسا سرٹیفکٹ لینے سے انکار کر دوں گا۔ میں کہوں گا کہ کیا کسی بیٹے کو اس کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی ماں کا اچھا بیٹا بننے کے لیے کسی اور کاسرٹیفکٹ حاصل کرے ۔ بخدا میں کسی گرو کولوا لحمر یا کسی گاندھی کے سرٹیفکٹ کے بغیر ہی ایک گڈ انڈین ہوں۔ انڈیا کی محبت میں نکلنے والے میری تنہائیوں کے آنسو جن کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا وہ بذات خود اس کے لیے کافی ہیں کہ میں اپنے آپ کو پورے معنی میں ایک گڈ انڈین سمجھوں۔
ایک بار میں مسلمانوں کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص نے حدیث رسول کے طور پر یہ جملہ سنایا : "حب الوطن من الایمان" اس مجلس میں ایک عالم بھی تھے انھوں نے کہا کہ یہ حدیث نہیں ہے بلکہ وہ ایک عربی مقولہ ہے۔ ایک اور شخص نے کہا کہ وطن کی محبت کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی واضح حوالہ موجود نہیں۔
میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ "حب الوطن من الایمان" کوئی حدیث رسول نہیں۔ مگر اس کو عربی مقولہ کہنا بھی درست نہیں ہے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ فطرت کا مقولہ ہے یہ انسانی فطرت کی آواز ہے جو ہر زبان میں مختلف الفاظ میں پائی جاتی ہے اور جو چیز عین فطرت کا حصہ ہو اس کا ذکر قرآن و حدیث میں ہونا ضروری نہیں ہے۔
میں نے کہا کہ کیا قرآن میں کہیں لکھا ہوا ہے کہ اے ماں ، تو اپنے بیٹے سے محبت کر۔ اے انسان، تو ہوا میں سانس لے۔ اے پیاسا، تو ٹھنڈا پانی پیا کر۔ یہ باتیں قرآن و حدیث میں درج نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب فطرت کے لازمی تقاضے ہیں اور جو چیز فطرت کا لازمی تقاضا ہو وہ اپنے آپ آدمی کی زندگی میں شامل رہتی ہے اس کے لیے کسی خارجی حکم کی ضرورت نہیں۔
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غیر مسلموں میں دعوت کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اصلاح کی جائے۔ یہ بالکل بے اصل بات ہے۔ اس کا تعلق نہ شریعت سے ہے اور نہ عقل سے۔ اس کے بجائے غیر مسلموں میں دعوت کے کام کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کشیدگی کی فضا کو ختم کیا جائے غیر مسلموں میں